سندھ ہائیکورٹ نے حادثات کے مقدمات چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹروے کے خلاف درج کرنے کا حکم دے دیا۔
جمعہ کو سندھ ہائیکورٹ میں ہائی ویز کی خراب صورتحال، ٹریفک حادثات کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی، این ایچ اے اور موٹروے پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے این ایچ اے حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ این ایچ اے ہائی ویز کی بہتری کیلئے کیا کام کر رہی ہے؟۔
ممبر جنوبی این ایچ اے عبدالطیف مہیسر نے بتایا کہ 11منصوبے اور سکیمیں موجود ہیں، این ایچ اے سندھ کے تحت بحالی منصوبے بھی جاری ہیں۔
جسٹس نثار بھنبھرو نے استفسار کیا کہ آپ کو علم ہے حادثات میں کتنے لوگ جاں بحق ہوئے ہیں؟ موٹر وے اور ہائی ویز پر ایمرجنسی سہولیات موجود ہیں؟، ممبر جنوبی این ایچ اے نے بتایا کہ ایم نائن موٹروے پر نوری آباد کے مقام پر ٹراما اور ریسکیو سینٹر موجود ہے۔
جسٹس نثار بھنبھرو نے ریمارکس دیے کہ این ایچ اے سب سے ناکارہ ادارہ ہے اور ناکارہ لوگوں کو دفتروں میں رکھا ہوا ہے۔
وکیل این ایچ اے نے کہا کہ حادثات صرف ہائی ویز پر نہیں دیگر اہم سڑکوں پر بھی ہوتے ہیں، لائسنس اور فٹنس کیلئے صوبہ ذمہ دار ہے، ایکسل لوڈ سے متعلق سندھ حکومت کو متعدد بار کہا ایسی گاڑیوں کو موٹرویز پر آنے سے روکیں۔
جسٹس نثار بھنبھرو نے ریمارکس دیئے کہ پیسے بھی تو آپ لے رہے ہیں، این ایچ اے سیفٹی آرڈیننس پڑھیں صوبائی پولیس کی ذمہ داری ہے یا موٹروے پولیس کی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائی ویز پر حادثات کے مقدمات چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹرویز کے خلاف درج کیا جائے، ہائی ویز پر ٹریفک بند ہوئی تو نقصان این ایچ اے کو بھرنا ہوگا۔جسٹس نثار بھنبھرو نے ریمارکس دیئے کہ ہم موٹر وے پولیس کو کہہ دیتے ہیں کہ جہاں سڑک خراب ہو وہاں ٹریفک روک دیں، ہم ہائی ویز سندھ حکومت کے حوالے کرتے ہیں، ہم ان سے کام کروا لیں گے۔
وکیل این ایچ اے نے کہا کہ ایم نائن کیلئے دی گئی زمین کی منتقلی سندھ حکومت نے ختم کر دی ہے۔جسٹس سلیم جیسر نے کہا کہ وفاق نے ادائیگی نہیں کی تو منتقلی منسوخ کی۔
جسٹس نثار بھنبھرو نے استفسار کیا کہ سکھر سے اسلام آباد سفر کیا ہے؟ کیا اتنی دیر میں ہالہ سے سکھر پہنچ سکتے ہیں؟۔
جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ کراچی میں پل گرا تھا اس کا مقدمہ چیئرمین کے خلاف درج ہونے کے بعد کوئی پل نہیں گرا۔
ممبر جنوبی این ایچ اے نے بتایا کہ انڈس ہائی وے مارچ میں مکمل بحال کر دیا جائے گا، جس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ مارچ تک حادثات کا ذمہ دار کون ہوگا؟ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس معاملے پر تفصیلی حکم نامہ جاری کریں گے۔بعد ازاں کیس کی سماعت 10اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔


