پنجاب اسمبلی کی کارروائی کے اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ 2025 کے دوران اسمبلی اراکین نے قومی خزانے کو ایک ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پنجاب اسمبلی کے 16 اجلاس بلائے گئے جس کے تحت 88 مجموعی طور پر دن اجلاس ہوا۔
ذرائع کے مطابق ایک اجلاس پر 7کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق کورم پورا نہ ہونے کے باعث 15 اجلاس ملتوی ہوئے جس کے باعث تقریباً ایک ارب روپے کا نقصان قومی خزانے کو اٹھانا پڑا۔
حیرت انگیز طور پر کورم پورا نہ ہونے کے باعث ملتوی ہونیوالے اجلاسوں میں اراکین اسمبلی کی رجسٹر پر حاضری مکمل رہی اور رجسٹر پر حاضری کے بعد ہی اراکین اسمبلی اس روز کے سیشن کا ٹی اے ڈی اے حاصل کر سکتے ہیں۔
حکومتی چیف وہپ پنجاب اسمبلی رانا ارشد کا کہنا تھا کہ اجلاس دیر سے شروع ہوتا ہے جس کے باعث اراکین حاضری لگا کر اپنے ذاتی کاموں کی وجہ سے چلے جاتے ہیں، اپوزیشن کورم کی نشاندہی کرتی ہے جو غلط عمل ہے۔
معاملے پر اپوزیشن رکن شیخ امتیاز محمود کا کہنا تھا کہ کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومتی اراکین حاضری لگا کر چلے جاتے ہیں کیونکہ انکو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔


