ہومUncategorizedفائر سیفٹی این او سی کے بغیر عمارتیں سیل کرنے کی درخواست

فائر سیفٹی این او سی کے بغیر عمارتیں سیل کرنے کی درخواست

اسلام آباد (لارڈ میڈیا) فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست گزار ملک نوید عاشق اعوان نے ایڈووکیٹ افراسیاب احمد رانا کے ذریعے 26 اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لگنے والی آگ سے 14 بچوں کی وفات کا حوالہ دیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے بڑے اسپتالوں سمیت متعدد عمارتیں فائر سیفٹی این او سی کے بغیر چل رہی ہیں۔ ان عمارتوں میں فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی اخراج کے راستے اور فائر الارم موجود نہیں ہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ تعلیمی، طبی اور غذائی اداروں کی رجسٹریشن کو فائر سیفٹی این او سی سے مشروط کیا جائے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ فائر سیفٹی این او سی نہ رکھنے والی عمارتوں کو فوری سیل کیا جائے اور ان کی فہرست عوام کے لیے جاری کی جائے۔ عدالت سے وفاقی دارالحکومت کی تمام عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 کے مؤثر عملدرآمد کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست میں وفاق، چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر، ایم سی آئی، ایچ ای سی، پائرا، ایف ڈی ای، اور فوڈ اتھارٹی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

پمز میں لگنے والی آگ کے بعد انتظامی غفلت اور حفاظتی اقدامات کی عدم دستیابی پر بحث جاری ہے۔ فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا، جبکہ پمز انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ تمام حفاظتی اقدامات فعال تھے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے ابتدائی رپورٹ تیار کی ہے جو آج پیش کی گئی ہے۔ پمز کے اعلیٰ عملے نے اپنی تحریری بیانات اور الیکٹرک میڈیکل رپورٹ تحقیقاتی کمیٹی کو جمع کرائی ہے۔

سانحے کے بعد وفاقی وزیرِ صحت کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا جبکہ شفاف احتساب اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم حتمی رپورٹ کا انتظار جاری ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں