نئی دہلی (لارڈ میڈیا): منی پور میں نسلی فسادات نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں کانگ پوکپی ضلع میں مسلح حملہ آوروں نے ایک ناگا گاؤں پر حملہ کر کے کم از کم 9 مکانات کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ منگل کی رات پیش آیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
بھارتی جریدہ "دکن کرونیکل” کے مطابق، حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کی اور پھر گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ریاست کے پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہنگامی اپیلوں کے باوجود قریب موجود سینٹرل ریزرو اور ریاستی پولیس نے بروقت کارروائی نہیں کی، جس سے لوگوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت منی پور میں انسانی حقوق کے تحفظ اور تشدد کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
حالیہ فسادات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مودی سرکار کے دور میں بھارت میں اندرونی خلفشار اور آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔


