ہومتازہ ترین50 ہزار پودوں کی کہانی، 26 برسوں بعد امریکی استاد کی چینی...

50 ہزار پودوں کی کہانی، 26 برسوں بعد امریکی استاد کی چینی خاتون شجرکار کے گھر آمد

ریٹائرڈ امریکی استاد رونالڈ ساکولسکی 26 برسوں بعد یِن یُو ژین کے گھر دوبارہ پہنچے۔ وہ اس ملاقات کا ایک طویل عرصہ سے انتظار کر رہے تھے۔

چین کی قومی سطح کی مثالی کارکن یِن یُو ژین گزشتہ چار دہائیوں سے ماؤوسو کے ریتلے علاقے میں درخت لگا رہی ہیں۔

سال 1999 میں چین کے ایک سکول میں تدریسی خدمات انجام دینے کے دوران ساکولسکی نے یِن یُو ژین کی شجرکاری کی کوششوں میں مدد کے لئے 5 ہزار امریکی ڈالر کا عطیہ اکٹھا کیا تھا۔

ساکولسکی واپس آئے تاکہ 50 ہزار سے زائد پودوں کو ایک سرسبز و شاداب جنگل میں تبدیل ہوتے خود دیکھ سکیں۔ یہ شجرکاری اُن کی مالی معاونت ہوئی تھی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): رونالڈ ساکولسکی، ریٹائرڈ امریکی استاد
’’واپس آکر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں اپنے گھر آ گیا ہوں۔ اگر میں سال 2000 میں ‘لاؤنئی’ (مقامی شخص) تھا تو اب میں اپنے گھر ہی واپس آیا ہوں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): رونالڈ ساکولسکی، ریٹائرڈ امریکی استاد
’’یہ سب صحرا کا حصہ تھا۔ یہ پھل پوری کہانی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے زمین کی مدد کی جس کا درجہ ماں جیسا ہےاور دھرتی ماں نے پھلوں کی صورت میں شکریہ ادا کیا۔ یہ بالکل سادہ سی بات ہے۔ اور یہ ایک اور چیز ہے جو میں نےچین سے سیکھی ہے۔‘‘

اوردوس، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں