واشنگٹن (لارڈ میڈیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں شرعی قانون کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صرف ایک ہی قانونی نظام ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ موقف ایک لائیو ریڈیو انٹرویو میں قدامت پسند میزبان گلین بیک سے گفتگو کے دوران اختیار کیا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ امریکا میں شرعی قانون پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں بعض مقامات پر شرعی قانون کی شکل میں متوازی نظام موجود ہے جسے ختم کیا جانا ضروری ہے۔
ٹرمپ نے لندن اور پیرس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان شہروں کے بعض علاقوں میں اسلامی قانون ایک الگ طرز زندگی کی شکل اختیار کر چکا ہے، اور امریکا کو ایسے کسی متوازی قانونی نظام کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
یہ بیان امریکا میں مذہب، قانون اور تارکین وطن سے متعلق جاری سیاسی بحث کے پس منظر میں دیا گیا ہے۔ امریکی آئین کے تحت ریاستی اور وفاقی قوانین نافذ ہوتے ہیں، جبکہ مسلمان شہری اپنے مذہبی عقائد پر عمل کر سکتے ہیں۔
شرعی قانون سے متعلق سیاسی بیانات میں مذہبی اصولوں پر ذاتی طور پر عمل اور ریاستی سطح پر متبادل قانونی نظام قائم کرنے کا فرق اہم ہے۔ اس حوالے سے بحث جاری ہے کہ مذہبی آزادی اور ملکی قانون کے درمیان حدود کو کس طرح بیان کیا جائے۔


