کٹھمنڈو (لارڈ میڈیا): نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے۔ نیپال کے ٹورازم بورڈ کے مطابق ہلاکتیں 150 ہوگئیں جبکہ سیکڑوں سیاح لاپتا ہیں جن میں 100 سے زائد بھارتی اور 12 برطانوی شہری شامل ہیں۔
ماہرین نے اس غیر معمولی موسم کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خطرناک ایل نینو سسٹم کی آمد کی نشانی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ستمبر 2026 سے 2027 کے وسط تک دنیا میں سب سے بڑے اور خطرناک ایل نینو کی آمد متوقع ہے، جس سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔
امریکی ادارہ نوا کے مطابق اکتوبر 2026 سے فروری 2027 کے دوران شدید ایل نینو آنے کا امکان 65 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین اس ممکنہ موسمیاتی واقعے کا موازنہ 1877 کے تباہ کن ایل نینو سے کر رہے ہیں۔
موجودہ عالمی حالات میں، ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال مزید تشویشناک ہوسکتی ہے کیونکہ زمین، سمندر اور فضائی نظام پہلے ہی زیادہ گرم ہوچکے ہیں۔ ایل نینو کے اثرات عالمی موسم، زرعی پیداوار اور پانی کے ذخائر پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کا ایل نینو جدید تاریخ کے خطرناک ترین موسمیاتی واقعات میں سے ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا کے کئی براعظموں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔


