ہوماہم ترینپاک۔چین کہانیاں | پاکستانی طلبہ چین میں طب کی تعلیم کے حصول...

پاک۔چین کہانیاں | پاکستانی طلبہ چین میں طب کی تعلیم کے حصول میں مگن

جینان (شِنہوا) گزشتہ سال کے آخر میں 60 سال کی عمر کا ایک فالج کا مریض چین کے مشرقی علاقے میں واقع شان ڈونگ یونیورسٹی کے چھی لو ہسپتال کے شعبہ بحالی طب میں لایا گیا جو ایک کندھے میں شدید درد میں مبتلا تھا اور اپنے متاثرہ بازو کو بہت کم حرکت دے سکتا تھا۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی ماسٹر کی طالبہ سیدہ فائقہ رحمان تشخیص اور علاج کے پورے عمل کے دوران چینی ڈاکٹروں کے ساتھ رہیں۔

ڈاکٹروں نے مریض کے کندھے کی حرکت کا بغور معائنہ کیا، اس کے درد کا جائزہ لیا اور طبی تصاویر اور بحالی کے سابقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اس دوران فائقہ رحمان نے قریب موجود رہ کر مشاہدہ کیا اور نوٹس لئے۔

جس چیز نے ان کی توجہ مبذول کرائی وہ یہ تھی کہ ہاتھ سے کی جانے والی بحالی کی ان تکنیکوں، جن سے وہ واقف تھیں، کے علاوہ چینی ڈاکٹروں نے مریض کا درد کم کرنے کی خاطر تجویز کردہ علاج کے لئے الٹراساؤنڈ گائیڈنس استعمال کی جس کے بعد بتدریج عملی تربیت کا آغاز کیا گیا۔

اگلے دو مہینوں کے دوران وہ مریض معائنہ کے سلسلے میں دو بار ہسپتال آیا۔ اس کا درد نمایاں طور پر کم ہو چکا تھا اور وہ بازو جسے وہ پہلے حرکت دینے سے گریز کرتا تھا اب کچھ آسان معاون حرکات انجام دینے کے قابل ہو چکا تھا۔

فائقہ رحمان نے کہا کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ چینی بحالی ٹیم کا باہمی ٹیم ورک تھا۔ ڈاکٹرز اور بحالی کے معالجین نے مریض کی حالت کا جائزہ لینے، علاج کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے اور اس کی صحت یابی کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے مل کر کام کیا۔

فائقہ رحمان کا تعلق لاہور سے ہے۔ چین پہنچنے کے بعد انہوں نے ایک سال چینی زبان سیکھی اور اس میں مہارت کا امتحان پاس کیا۔ 2023 میں وہ چھی لو ہسپتال کے شعبہ بحالی طب میں باضابطہ طور پر داخلہ لینے والی ماسٹر کی پہلی پاکستانی طالبہ بنیں۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران انہوں نے بیرونی مریضوں کے شعبے اور اندرونی مریضوں کے وارڈز میں طبی سرگرمیوں اور نظریاتی مطالعہ جاری رکھا اور فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ اور گردن، کندھے اور کمر کے نچلے حصے کے درد سمیت عام امراض کی تشخیص اور علاج میں عبور حاصل کیا۔

تحقیق کے شعبے میں انہوں نے فالج کے بعد بازو کے بالائی حصے کی حرکت کی صلاحیت کی بحالی پر توجہ مرکوز کی ہے اور ایس سی آئی میں شامل ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا ہے۔

فائقہ رحمان نے کہا کہ چین آنے سے پہلے میں جانتی تھی کہ چین نے طبی تعلیم، صحت کی دیکھ بھال کی ٹیکنالوجی اور طبی تحقیق میں شاندار ترقی کی ہے۔ یہاں پہنچنے کے بعد انہیں چین میں بحالی کے جدید آلات اور صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ پیشہ ور افراد کے درمیان باہمی تعاون کا براہ راست تجربہ حاصل ہوا۔

وانگ یونگ ہوئی جو فائقہ رحمان کی سپروائزر اور چھی لو ہسپتال کے شعبہ بحالی طب کی ڈائریکٹر ہیں، کے نزدیک اس قسم کی بین الاقوامی طبی تربیت محض سکھانے اور سیکھنے کا یکطرفہ عمل نہیں۔

2015 سے یہ محکمہ عراق اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کے گریجویٹ طلبہ کو تربیت دے چکا ہے۔ وانگ نے کہا کہ بین الاقوامی طلبہ اکثر مختلف زاویوں سے سوالات اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر ایک طالب علم یہ پوچھ سکتا ہے کہ کسی مریض کی جانچ کے لئے کوئی خاص طریقہ کیوں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے بظاہر سادہ سوالات چینی ڈاکٹروں کو ان طبی طریقوں پر ازسرنو غور کرنے اور انہیں بہتر انداز میں بیان کرنے پر مجبور کرتے ہیں جنہیں وہ طویل عرصے سے طے شدہ یا معمولی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

وانگ نے کہا کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے تجربات سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ چینی ہسپتالوں کو طبی آلات اور ٹیکنالوجیز کی نسبتاً وسیع اقسام کے ساتھ ساتھ مربوط طبی طریقہ کار اور کثیر شعبہ جاتی تعاون تک رسائی حاصل ہے۔ دوسری طرف پاکستانی ڈاکٹر مریضوں کے تفصیلی انٹرویوز، باریک بینی سے جسمانی معائنے اور بنیادی عملی طبی مہارتوں پر زیادہ زور دیتے ہیں۔

وانگ نے کہا کہ طبی تبادلے ایک دوسرے سے سیکھنے اور فائدہ اٹھانے کا عمل ہیں۔

ایک اور پاکستانی ڈاکٹر اقتدا احمد مرزا کا چین میں طبی مطالعہ کا سفر اور بھی طویل رہا ہے۔

مرزا 2008 میں جہلم سے چین آئے تھے اور اب 18 سال سے چین میں مقیم ہیں۔ رواں سال جون میں انہوں نے شان ڈونگ یونیورسٹی سے طب میں اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی جس میں ان کی خاص مہارت گیسٹرو انٹرولوجی پر توجہ کے ساتھ انٹرنل میڈیسن میں تھی۔

چین کا انتخاب کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے مرزا نے سب سے پہلے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کی طرف اشارہ کیا۔ سینئر ساتھیوں اور اساتذہ نے بھی طبی تربیت کے لئے ایک منزل کے طور پر چین کی سفارش کی تھی۔

چھی لو ہسپتال میں اپنی تعلیم کے دوران ایک مریض کے معدے سے فائٹو بیزور پودوں کے ریشوں سے بننے والی گانٹھ نکالنے سے متعلق ایک کیس نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔

انہوں نے دیکھا کہ چینی ڈاکٹروں نے نہ صرف مریض کی مخصوص حالت کے مطابق علاج اپنایا بلکہ اس پر بھی خوب غور کیا کہ دستیاب طبی وسائل کا بہترین استعمال کیسے کیا جائے۔ کسی بھی مخصوص تکنیک سے زیادہ جس چیز نے انہیں متاثر کیا وہ ڈاکٹروں کا باریک بینی سے کام کرنے کا انداز اور مریض کی دیکھ بھال کا جذبہ تھا۔

مرزا نے کہا کہ اس تجربے نے مجھ پر یہ واضح کیا کہ طبی تبادلہ صرف ہنر یا تکنیک سکھانے کا نام نہیں بلکہ یہ مریض کو مرکز نگہداشت سمجھنے کے فلسفے کو اشتراک میں لانے کا بھی نام ہے۔

مرزا اور دونوں ممالک کے دیگر طبی ماہرین کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان چین طبی تبادلے اور تعاون وسیع ہو رہا ہے۔ چینی ماہرین کو مریضوں کے علاج، جراحی کے مظاہروں اور سیمینارز میں شرکت کے لئے پاکستان مدعو کیا گیا جبکہ مزید پاکستانی ڈاکٹروں کو چین میں تربیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔

چھی لو ہسپتال کے شعبہ گیسٹرو انٹرولوجی کے چیف فزیشن لی یان چھنگ نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل تعاون پاکستان کو طبی معیارات بہتر، پرائمری ہیلتھ کیئر سروسز کو مضبوط بنانے اور زیادہ اعلیٰ سطح کے طبی پیشہ ور افراد کو تربیت دینے میں مدد کرے گا۔ اس سے ہمیں بیماریوں پر سرحد پار تحقیق کرنے اور بین الاقوامی طبی خدمات بہتر بنانے کے قابل بھی بنایا جا سکے گا۔

مرزا امید کرتے ہیں کہ وہ چین میں سیکھے گئے طبی طریقوں اور طبی ٹیکنالوجیز کو مزید پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ شیئر کریں گے اور طبی مشق، تربیت اور تحقیق میں دونوں ممالک کے طبی پیشہ ور افراد کے درمیان زیادہ تعاون کی ترغیب دیں گے۔

رحمان کے بھی ایسے ہی ارادے ہیں۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ چین میں حاصل کردہ جدید بحالی کے تصورات اور ٹیم ورک کا تجربہ پاکستان لے جانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا میں دونوں ممالک کے درمیان ایک پل بننا چاہتی ہوں اور دونوں ممالک کے مریضوں کے فائدے کے لئے طبی علم، مہارت اور تجربات کے تبادلے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہوں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں