ساؤنڈ بائٹ 1 (جاپانی): احتجاج کرنے والا شہری
"میرا ماننا ہے کہ 15 اگست وہ دن ہے جب ہمیں جاپان کے کئے گئے اقدامات پر گہرائی سے غور کرنا چاہئے۔”
اوساکا سے تعلق رکھنے والے شہری میازاکی نے ہفتے کے روز ٹوکیو کے اواجی پارک میں یاسوکونی مزار کے خلاف نکالی گئی ایک احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔ یاسوکونی مزار کو جاپانی عسکریت پسندی اور دوران جنگ جارحیت اور جنونیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کے بیشتر حصوں میں 15 اگست کا دن دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی سالگرہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تاہم جاپان میں اسے عموماً ’’جنگ کے خاتمے کا یادگاری دن‘‘ کہا جاتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (جاپانی): میازاکی، احتجاج میں شریک شہری
’’حقیقت یہ ہے کہ جاپان کو شکست ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے اس شکست کو ’جنگ کا خاتمہ‘ قرار دیا۔ جاپان نے ایک ایسی غیر ذمہ دارانہ جنگ شروع کی جس کا حاصل کچھ نہیں تھااور بالآخر اس کے تباہ کن نتائج ہی سامنے آئے۔ اسے ’جنگ کا خاتمہ‘ کہنا اس کی حقیقت کو چھپانے کے مترادف ہے۔‘‘
ان کے الفاظ نے ریلی میں شریک بہت سے لوگوں کی جانب سے اس وسیع تر اظہارِتشویش کی عکاسی کی کہ جاپان کی جنگی تاریخ پر سنجیدگی سے غور کرنے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ جاپان کی جنگی عسکریت پسندی سے وابستہ علامتوں کو اب بھی سرکاری سطح پر حمایت حاصل ہے۔
ہفتے کے روز جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی صدر کی حیثیت سے یاسوکونی مزار کے لئے رقم کی صورت میں نذرانہ پیش کیا۔ گزشتہ برس عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی جنگی یادگاری تقریب میں شرکت سے قبل انہوں نے قریبی مقام سے مزار کے لئے عقیدت کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی اور ایل ڈی پی کے سیکرٹری جنرل شونیچی سوزوکی سمیت کابینہ کے کئی وزرا اور سینئر سیاست دانوں نے ذاتی حیثیت میں مزار کا دورہ کیا۔
ہفتے کی سہ پہر تک جاپانی شہریوں کی بڑی تعداد یاسوکونی مزار کے خلاف اواجی پارک میں جمع ہو گئی۔ بعد میں انہوں نے احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے ’’یاسوکونی مزار ختم کرو‘‘، ’’عسکریت پسندی نامنظور‘‘، ’’جنگی ریاست نامنظور‘‘ اور ’’تاکائیچی مستعفی ہوں‘‘ جیسے نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے مزار کی مذمت کی اور اسے جاپانی عسکریت پسندی کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (جاپانی): احتجاج کرنے والا شہری
’’جنگ کے دوران ہونے والی ان ہلاکتوں کو ’عظیم قربانیاں‘ قرار دینا مکمل طور پر مضحکہ خیز تھا۔‘‘
مزار کے معاملے سے ہٹ کر بھی بہت سے مظاہرین نے جاپان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی توسیع پر تشویش کا اظہار کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (جاپانی): نومورا، احتجاج میں شریک شہری
’’جاپان جنگ اور قوم پرستی کی جانب گامزن ہے۔ اس رجحان کو کسی صورت بڑھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔‘‘
گزشتہ برس اکتوبر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تاکائیچی حکومت نے دوبارہ عسکری طاقت بڑھانے کی پالیسیوں پر تیزی سے پیش رفت کی ہے۔ ان اقدامات میں سیلف ڈیفنس فورسز کو زیادہ جارحانہ صلاحیتوں کے لئے ازسرِنو منظم کرنا، نام نہاد ’’دشمن کے اڈوں پر حملے کی صلاحیت‘‘ رکھنے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تنصیب، مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، بیرونِ ملک جارحانہ میزائلوں کے تجربات اور ہائپرسونک ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی لانا شامل ہیں۔
ناقدین کا موقف ہے کہ یہ اقدامات جاپان کی طویل عرصے سے اختیار کردہ ’’صرف دفاع پر مبنی پالیسی‘‘ کے اصول سے نمایاں انحراف کی عکاسی کرتے ہیں۔
ٹوکیو سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


