شین یانگ (شِنہوا) چینی سائنسدانوں نے ایک ننھا روبوٹ تیار کیا ہے جو مینٹا رے مچھلی کی طرح تیرتا ہے۔ یہ ایک بڑی اور چپٹی مچھلی ہے جو پروں جیسی پنکھ نما ساخت کے ذریعے سمندر میں تیرتی ہے، جبکہ یہ روبوٹ حقیقی مینڈک کے پٹھوں سے چلتا ہے۔
ان کی یہ تحقیق حال ہی میں بین الاقوامی جریدے ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز میں شائع ہوئی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ماتحت شین یانگ انسٹی ٹیوٹ آف آٹومیشن (ایس آئی اے سی اے ایس) کے محققین کی تیار کردہ اس روبوٹ کو حرکت کرنے کے لئے کسی تار یا بیٹری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ قریب انفراریڈ روشنی اسے کنٹرول کرتی ہے۔ جب روبوٹ کی پشت پر موجود چھوٹے سولر پینلز پر روشنی پڑتی ہے تو وہ چھوٹے برقی سگنل پیدا کرتے ہیں جو پٹھوں کی بافتوں کی سطح پر موجود اعصاب کو منتقل ہوتے ہیں تاکہ پٹھوں کے سکڑنے اور حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے۔
تحقیقی ٹیم نے بُل فراگ کی ٹانگ سے لیا گیا قدرتی پٹھے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا استعمال کیا۔ لیبارٹری میں تیار کردہ پٹھے اکثر کمزور ہوتے ہیں جبکہ ان کے برعکس اس قدرتی بافت کا ریشے دار ڈھانچہ بہت منظم ہوتا ہے اور یہ بہت زیادہ طاقت پیدا کر سکتی ہے۔ لیبارٹری کلچر میں یہ پٹھے 11 دن تک فعال رہے اور پورے ایک ہفتے تک بھروسہ مند طریقے سے روبوٹ کو چلایا۔
مطالعہ کے مطابق یہ روبوٹ سیدھا تیر سکتا ہے، بائیں یا دائیں مڑ سکتا ہے، دائروں میں چکر لگا سکتا ہے اور یہاں تک کہ یو ٹرن بھی لے سکتا ہے اور یہ سب کچھ کنٹرولر کے ساتھ کسی بھی جسمانی رابطے کے بغیر ہوتا ہے۔ بائیں یا دائیں سولر پینل پر لیزر لائٹ ڈال کر محققین پٹھوں کے ایک حصے کو سُکڑنے جبکہ دوسرے کو آرام کی حالت میں لانے کا کام لیتے ہیں اور بالکل ایک اصلی مینٹا رے کی طرح روبوٹ کو موڑتے ہیں۔
مزید یہ کہ اپنے حجم کے لحاظ سے یہ روبوٹ حیرت انگیز طور پر تیز رفتار ہے۔ یہ روبوٹ اوسطاً اپنی جسمانی لمبائی کے 0.54 گنا فی سیکنڈ یعنی تقریباً 2.7 سینٹی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے تیرتا ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار اپنی جسمانی لمبائی کے 2 گنا فی سیکنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔یہ بہت کم جگہ میں مڑ سکتا اور محض 17 سیکنڈ میں پورا دائرہ مکمل کر لیتا ہے۔ یہ 5 گرام تک کا چھوٹا وزن بھی اٹھا سکتا ہے اور خشکی پر آہستہ آہستہ حرکت بھی کر سکتا ہے۔
مطالعہ کے متعلقہ مصنف اور ایس آئی اے سی اے ایس کے محقق ژانگ چھوانگ نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب قدرتی پٹھوں کو تار کے بغیر روشنی سے کنٹرول ہونے والی تحریک کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ ٹیم نے یہ ثابت کیا کہ پٹھوں کے اصل بافت روبوٹس کے لئے ایک طاقتور اور قابل بھروسہ محرک کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔
مستقبل کے لئے محققین پٹھوں کو زیادہ دیر تک زندہ رکھنا چاہتے ہیں، وہ بہتر کنٹرول کے لئے نرم الیکٹروڈ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ روبوٹ خود سے چل سکے۔
ژانگ نے کہا کہ یہ چھوٹا تیرنے والا روبوٹ اتھلے پانی کے ماحول کی نگرانی کرنے اور آبی حیات کو پریشان کئے بغیر ان کا مشاہدہ کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
محققین کا ماننا ہے کہ پٹھے کنٹرول کرنے کے لئے برقی سگنلز استعمال کرنے کا ان کا یہ طریقہ طبی شعبوں جیسے کہ اعصاب سے خراب ہونے والے پٹھوں کی مرمت یا ٹشو بڑھانے کے لئے بہتر لیبارٹری سسٹمز تیار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔


