ہومتازہ ترینچین کی ماحول دوست ٹیکنالوجی برازیل کی پائیدار ترقی کو فروغ دے...

چین کی ماحول دوست ٹیکنالوجی برازیل کی پائیدار ترقی کو فروغ دے رہی ہے

بیجنگ (شِنہوا) صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور برازیل کے درمیان ماحول دوست تعاون میں گہرائی آنے کے ساتھ چینی کمپنیاں جدید ترین ٹیکنالوجیز برازیل لا رہی ہیں، جو ملک کو توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور پائیدار ترقی کی جانب پیش رفت تیز کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔

چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے محقق ژو ژی وے نے شِنہوا کو بتایا کہ "چین اور برازیل ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کے حوالے سے اعلیٰ درجے کا اتفاق رائے رکھتے ہیں۔” ژو نے برازیل کی "نئی صنعت” پالیسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ چین کے ماحول دوست ترقی کے طریقہ کار سے کافی ہم آہنگ ہے۔

برازیل کی حکومت کی جانب سے 2024 سے 2026 تک کی مدت کے لئے شروع کی گئی صنعتی پالیسی کا مقصد پیداواری صلاحیت، پائیداری اور جدت کو فروغ دے کر ملک کو دوبارہ صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ توانائی کی منتقلی اس پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

یہ توجہ چین کے اپنے ترقیاتی طریقہ کار سے بھی مماثلت رکھتی ہے۔ چین کا 15 واں پانچ سالہ منصوبہ (2026-2030) اقتصادی اور سماجی ترقی کی جامع ماحول دوست منتقلی کو تیز کرنے کو ترجیح دیتا ہے اور ماحول دوست پیداواری طریقوں اور روزمرہ زندگی کے طور طریقوں کی تشکیل میں تیزی لانے پر زور دیتا ہے۔

ژو نے کہا کہ دونوں ممالک کی تزویراتی ترجیحات، جن میں ماحول دوست ترقی، توانائی کی منتقلی اور دوبارہ صنعتی ترقی شامل ہیں، ایک دوسرے سے بہت زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحول دوست تعاون کو گہرا کرنے کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے لے کر صنعتی جدت اور تکنیکی اختراع تک مختلف شعبوں میں چین کا تجربہ "ایک قابل قدر نمونہ” فراہم کر سکتا ہے۔

برازیل کے ماحول دوست توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نئی شکل دینے والے ایک اہم اقدام کے تحت اسٹیٹ گرڈ کارپوریشن آف چائنہ نے حال ہی میں 1,468 کلومیٹر طویل الٹرا ہائی وولٹیج (یو ایچ وی) بجلی کی ترسیل کے منصوبے کی تعمیر کا آغاز کیا ہے۔ یہ جنوبی امریکی ملک کی تاریخ میں بجلی کی ترسیل کے فرنچائز منصوبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔

چین کی پختہ یو ایچ وی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والا یہ بڑا منصوبہ 2029 میں کام شروع کرنے کے لئے مقرر ہے۔ یہ توانائی کی ایک اہم شریان کے طور پر کام کرے گا، جو وسائل سے مالا مال شمال مشرقی برازیل سے ہوا، شمسی اور پن بجلی ملک کے وسطی اور مشرقی علاقوں کے بڑے بجلی صارف مراکز تک پہنچائے گی۔ منصوبے کے مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ 20 ارب کلو واٹ آور سے زائد صاف توانائی فراہم ہونے کی توقع ہے، جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 68 لاکھ 40 ہزار ٹن کمی کے برابر فائدہ ہوگا۔

اس سے قبل اسٹیٹ گرڈ نے بیلو مونٹی یو ایچ وی ڈائریکٹ کرنٹ فیز اول اور فیز دوم منصوبے شروع کئے تھے، جن کے ذریعے شمالی برازیل کے ایمیزون طاس میں پیدا ہونے والی بڑی مقدار میں پن بجلی براہ راست ملک کے جنوب مشرقی میٹروپولیٹن علاقوں تک پہنچائی جاتی ہے۔

اسٹیٹ گرڈ کے ایک سرکاری بیان کے مطابق چین کی جدید صاف توانائی ٹیکنالوجی سے چلنے والے ایسے منصوبوں نے برازیل کو اپنے توانائی کے وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانے اور توانائی کے ڈھانچے کی ماحول دوست اور کم کاربن منتقلی کو تیز کرنے میں مدد دی ہے۔

ریاستی سطح کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے علاوہ چینی نجی کمپنیاں بھی برازیل کی ماحول دوست منتقلی میں تیزی سے فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور صاف توانائی، برقی نقل و حرکت اور پائیدار مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں مارکیٹ پر مبنی حل فراہم کر رہی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں