ہومتازہ ترینچینی ٹیک سٹی ایشیا بحرالکاہل کے ماحول دوست مستقبل پر نوجوانوں کے...

چینی ٹیک سٹی ایشیا بحرالکاہل کے ماحول دوست مستقبل پر نوجوانوں کے مباحثوں کا محرک

شین زین (شِنہوا) ایشیا بحرالکاہل خطے سے تعلق رکھنے والے نوجوان ماہرین اور دانشور چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں واقع دنیا کے معروف ٹیکنالوجی مرکز شین زین میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے اس بات پر غور کیا کہ ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی خطے کے مستقبل کو کس طرح تشکیل دے سکتی ہے اور اس عمل میں نوجوانوں کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔

"ایشیا بحرالکاہل کے نوجوانوں کا اجتماع: توانائی کے ذریعے مشترکہ مستقبل کی تعمیر” کے عنوان سے جمعہ کو منعقد ہونے والی اس تقریب میں 13 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد ماہرین، دانشوروں اور صحافیوں نے شرکت کی اور مکالموں اور مباحثوں میں حصہ لیا۔

اپیک کے پائیدار توانائی مرکز کے تھنک ٹینک دفتر کے سربراہ یو گوان یی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صاف، محفوظ اور موثر توانائی کے نظام کی تعمیر ایشیا بحرالکاہل کی مشترکہ خوشحالی کے لئے ایک اہم بنیاد ہے۔

ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں نوجوانوں کی آواز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پیکنگ یونیورسٹی کی ین چھنگ اکیڈمی میں ماسٹر کے آسٹریلوی طالب علم لیو بیری نے کہا کہ مزید نوجوانوں کو ایسی پیشہ ورانہ گفتگو میں حصہ لینے کی ترغیب دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ انہیں ایک صاف، ماحول دوست اور زیادہ خوشحال مستقبل کی تشکیل میں عملی کردار ادا کرنے کے لئے تحریک مل سکے۔

نوجوان نمائندگان نے شین زین کے مرکزی علاقے میں واقع چین کے پہلے زیرو کاربن انٹر ایکٹو سب سٹیشن، 110 کلو وولٹ چھون ہوئی سب سٹیشن کا بھی دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے جانا کہ کس طرح ماحول دوست توانائی قابل اعتماد بجلی فراہم کرکے اس بڑے شہر کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو توانائی فراہم کر سکتی ہے۔

شین زین نومبر میں اپیک کے 33 ویں اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے اس لئے شرکاء نے خطے کے ممالک کے درمیان ماحول دوست توانائی کے شعبے میں تعاون پر خصوصی توجہ دی۔

کمبوڈیا کی وزارت صنعت، سائنس، ٹیکنالوجی و جدت کے چھوئیون رکسمے نے کہا کہ ایشیا بحرالکاہل کا بجلی کا نظام اب بھی بجلی تک رسائی اور توانائی کے وسائل اور طلب کے درمیان عدم مطابقت جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے خطے کے اندر توانائی کے تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں شمالی لاؤس میں پیدا ہونے والی پن بجلی پہلی مرتبہ اس رابطے کے ذریعے گوانگ ڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ عظیم تر خلیجی علاقے تک پہنچی اور توقع ہے کہ اکتوبر کے اختتام تک بجلی کی مجموعی ترسیل تقریباً 60 کروڑ کلو واٹ آور تک پہنچ جائے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں