ہومتازہ ترینچین نے زبانوں کے تحفظ اور لسانی تنوع کے لئے نمائشی ہال...

چین نے زبانوں کے تحفظ اور لسانی تنوع کے لئے نمائشی ہال کھول دیا

چھانگ شا (شِنہوا) چین کے متنوع لسانی وسائل کے تحفظ کے لئے مختص ایک نئے نمائشی ہال کا پیر کے روز چین کے وسطی صوبہ ہونان کے دارالحکومت چھانگ شا میں افتتاح کر دیا گیا۔ نمائشی ہال میں زبانوں اور بولیوں کو دستاویزی شکل دینے کے لئے گزشتہ ایک دہائی سے جاری کوششوں کو ڈیجیٹل اور انٹرایکٹو نمائشوں کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

ہونان عجائب گھر میں قائم چین کے لسانی وسائل کے تحفظ کے منصوبے کے نمائشی ہال میں چین بھر کے ایک ہزار 800 سے زائد فیلڈ سروے مقامات سے جمع کی گئی ریکارڈنگز اور دیگر لسانی مواد کو رکھا گیا ہے جن میں چینی بولیاں، نسلی اقلیتوں کی زبانیں اور ان سے وابستہ ثقافتی روایات شامل ہیں۔

نمائش میں زبانوں سے متعلق 30 سے زائد ثقافتی نوادرات بھی رکھے گئے ہیں۔

ہونان عجائب گھر کے ڈپٹی پارٹی سیکرٹری چھن شو لیانگ کے مطابق نمائش میں چینی زبان کی 10 بڑی بولیوں اور 100 سے زائد نسلی اقلیتی زبانوں کی اصل صوتی ریکارڈنگز شامل ہیں جن میں منگولین، تبتی، ویغور اور ژوانگ زبانیں بھی شامل ہیں۔

چھن شو لیانگ نے مزید بتایا کہ زائرین مختلف علاقوں کی بولیاں، لوک گیت اور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار بعض زبانوں کی فیلڈ ریکارڈنگز سن سکتے ہیں جبکہ انٹرایکٹو تنصیبات کے ذریعے چین میں زبانوں کی ترقی اور لسانی تنوع کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔

2015 میں لسانی تحفظ کے ایک قومی منصوبے کے تحت یہ مواد جمع کیا گیا اور اس مواد پر مبنی اس نمائش کا مقصد ملک کی متنوع زبانوں اور بولیوں کو دستاویزی شکل دینا اور محفوظ کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

پیر کے روز ایک اتحاد بھی قائم کیا گیا جس میں جامعات اور تحقیقی اداروں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ تعلیم، سائنسی تحقیق اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں لسانی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں