اسلام آباد (لارڈ میڈیا): پاکستان میں الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل فونز کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لئے میڈ اِن پاکستان پالیسی تیار کرلی گئی ہے، تاہم منظوری نہ ملنے کے باعث اس پر عملدرآمد تاخیر کا شکار ہے۔
دستاویزات کے مطابق اس پالیسی کے تحت موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کی مقامی تیاری کی جائے گی، جبکہ سگنلز بوسٹرز، ڈونگلز اور بائیو میٹرک مشینوں کی تیاری بھی شامل ہوگی۔
پالیسی میں تجویز دی گئی ہے کہ الیکٹرانک ڈیوائسز کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس چھوٹ فراہم کی جائے، جبکہ درآمدی الیکٹرانک اشیا پر 5 فیصد تک لیوی عائد کی جائے۔
پی او ایس مشینیں، ٹریکرز سسٹم اور اسمارٹ واچز کی مقامی تیاری سے ڈیٹا تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور حکومت کو کروڑوں ڈالر کی بچت ہوگی۔ پاکستان میں سالانہ 42 کروڑ 23 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرانک ڈیوائسز درآمد کی جاتی ہیں۔


