واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا نے حزب اللہ کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے تنظیم کے ایران سے قریبی تعلقات کو اجاگر کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 10 افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک لبنان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان تجارتی پروازوں کے ذریعے بڑی رقوم منتقل کرتا تھا۔ ان کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے کروڑوں ڈالر منتقل کیے جاتے تھے جس سے حزب اللہ کو غیر رسمی مالی نظام کے ذریعے غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے اور پابندیوں سے بچنے میں مدد ملتی تھی۔
امریکا نے حزب اللہ کو ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے والی تنظیم اور ایران کی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے زیرِ اثر قرار دیا ہے۔ امریکا نے حزب اللہ کو 1997 میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔


