اقوام متحدہ (شِنہوا) ایک چینی مندوب نے کہا ہے کہ اتحاد اور تعاون سلامتی کونسل کے طریقہ کار کی بنیاد ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو تسونگ نے کہا کہ اجتماعی سلامتی کے عالمی نظام کے بنیادی ادارے کی حیثیت سے سلامتی کونسل کی اپنے فرائض موثر طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت اقوام متحدہ کی ساکھ و وقار اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے امکانات سے براہ راست وابستہ ہے۔ کونسل کے کام کرنے کے طریقہ کار، جو اس کے مینڈیٹ کی تکمیل کے لئے ایک اہم حفاظتی ضمانت ہیں، محض تکنیکی معاملہ ہرگز نہیں۔ انہیں بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے وسیع تر تناظر میں مسلسل بہتر اور مزید موثر بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کے طریقہ کار پر کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد اور تعاون کثیر الجہتی میکانزم کے لئے طاقت اور توانائی کا سرچشمہ ہیں اور انہیں سلامتی کونسل کے کام کرنے کے طریقے کا بنیادی حصہ رہنا چاہیے۔ چاہے بنیادی نوعیت کے معاملات ہوں یا طریقہ کار کے مسائل، کونسل کے ارکان کو ایک دوسرے کا احترام، مکمل مشاورت اور اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنے سمیت اتفاق رائے کے حصول کے لئے تمام تر کوششیں کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کونسل کے ارکان میں نمایاں اختلافات موجود ہوں تو ایسی صورت میں قراردادوں کے مسودے پر جلد بازی میں رائے شماری کرانا نہ صرف تقسیم کو بڑھاتا ہے بلکہ قراردادوں کی سیاسی اہمیت اور افادیت بھی مجروح کرتا ہے۔
فو کانگ نے کہا کونسل کے اجلاسوں، ان کے نتائج اور پابندیوں و امن مشنز جیسے اقدامات کی افادیت کا اندازہ اس طرح لگایا جانا چاہیے کہ آیا وہ حقائق پر مبنی ہیں اور کیا وہ اہم تنازعات کا مثبت انداز میں سیاسی حل آگے بڑھا سکتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے پرامن حل تلاش کریں، متعلقہ ممالک کی خود مختاری اور مرضی کا مکمل احترام کریں اور پابندیوں یا طاقت کے استعمال جیسے سخت اقدامات میں احتیاط سے کام لیں۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے جو نظام اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے، اس کا فوری جائزہ لے کر ترمیم کی جانی چاہیے اور جو پابندیاں اپنی افادیت کھو چکی ہیں انہیں بروقت ختم کر دینا چاہیے۔
فو کانگ کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کو بدلتے حالات کے مطابق اپنے اجلاسوں کے اوقات کار میں بروقت تبدیلی، وسیع تر موضوعات پر بات چیت کے لئے مناسب انتظامات کرنے کے ساتھ ساتھ ایک جیسے موضوعات پر بار بار اجلاس بلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مختلف قسم کے اجلاسوں کے لئے نرم اسلوب استعمال کرنا چاہیے، غیر رسمی مشاورت میں مناسب اضافہ اور کونسل کے اراکین کے درمیان کھلے اور موثر رابطوں کو فروغ دینے سمیت تحریری اسلوب بہتر بنانا اور حتمی دستاویزات کو زیادہ جامع اور واضح بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل پر عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس کا مقام اور کردار لاثانی ہے۔ ایک متحد اور مضبوط سلامتی کونسل عالمی امن و استحکام کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔


