ٹوکیو (شِنہوا) جاپان کی ہیگاشی نیپون انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وزیٹنگ پروفیسر کازوتیرو سائی اونجی نے کہا ہے کہ ’’حالیہ برسوں میں مجھے شدت سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ جاپان ایک خطرناک راستے پر گامزن ہے اور اس تشویش کا احساس رواں سال 15 اگست کو اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔‘‘
جاپان کی ماضی کی جارحانہ جنگوں نے چین سمیت ایشیا کے مختلف ممالک اور خطوں کے عوام کو بے پناہ مصائب سے دوچار کیا۔ 15 اگست 1945 کو جاپان کو شکست ہوئی اور اس نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔
81 سال بعد بھی جاپان کی دائیں بازو کی قوتوں نے نہ صرف ملک کے تاریخی جرائم پر غور کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ اس کے برعکس وہ جاپان کی جارحیت کی تاریخ کو مسخ کرنے، اس کی شدت کو کم ظاہر کرنے اور حتیٰ کہ اسے قابل فخر بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
رواں سال 15 اگست کو جاپانی وزیراعظم سنائی تاکائیچی نے حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر کی حیثیت سے بدنام زمانہ یاسوکونی مزار کے لئے مالی نذرانہ پیش کیا، جہاں دوسری جنگ عظیم کے 14 سزا یافتہ کلاس اے جنگی مجرموں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اسی روز جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی قومی یادگاری تقریب میں شرکت سے قبل انہوں نے قریبی مقام سے متنازع مزار کی جانب بالواسطہ طور پر عقیدت کا اظہار بھی کیا۔
شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں سائی اونجی نے کہا کہ ’’تاکائیچی کی جانب سے یاسوکونی مزار کی طرف دور سے عقیدت کا اظہار دراصل ذاتی طور پر مزار کا دورہ کرنے کے مترادف ہے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دونوں میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں، جبکہ اے کلاس جنگی مجرموں کو اعزاز دینے والے مزار کے سامنے جھکنا اور تالیاں بجانا تاریخ کے بارے میں ایک مسخ شدہ نقطہ نظر کے اظہار کے مترادف ہے۔
سائی اونجی نے کہا کہ کوئی تصور کر سکتا ہے کہ اگر جرمنی میں ایڈولف ہٹلر اور اعلیٰ نازی حکام کی یاد میں کوئی مقبرہ یا یادگار ہوتی اور جرمن چانسلر، صدر اور دیگر سیاست دان وہاں عقیدت کے پھول نچھاور کرنے جاتے تو کیا ہوتا۔ اس طرح کے عمل سے نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ میں طوفان کھڑا ہو جاتا اور جرمن حکومت کو تقریباً راتوں رات مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ ’’اس کے باوجود جاپان میں ایسا عمل یوں انجام دیا جا سکتا ہے جیسے کچھ بھی غلط نہ ہوا ہو۔ یہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ جاپان کی صورتحال کس قدر غیر معمولی ہے۔‘‘
15 اگست کو جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاکائیچی نے ایشیا کے ہمسایہ ممالک کے خلاف جاپان کی ماضی کی جارحانہ جنگوں یا ان کے نتیجے میں ہونے والی بے پناہ تباہی اور مصائب کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے جاپان کی جارحیت کی تاریخ پر معذرت بھی نہیں کی، جبکہ ان کے خطاب میں ’’پشیمانی‘‘ کا لفظ بھی موجود نہیں تھا۔
اس کے بجائے تاکائیچی نے الفاظ کے ہیر پھیر سے کام لیا۔ ان کے پیش رو روایتی طور پر ’’جنگ کی ہولناکیوں کو دوبارہ کبھی نہیں دہرایا جانا چاہیے‘‘ کا جملہ استعمال کرتے تھے، تاہم انہوں نے اسے بدل کر ’’جنگ کی ہولناکیاں دوبارہ کبھی نہیں دہرائی جانی چاہئیں‘‘ کر دیا، جس کے ذریعے وہ جاپان کی جارحیت کی تاریخ کو چھپانے اور اس کی حقیقت کو دھندلا کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیں۔
سائی اونجی نے نشاندہی کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ’’ان دونوں اظہار کے معنی بالکل مختلف ہیں۔ اور یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’جنگ کی ہولناکیوں کو دوبارہ کبھی نہیں دہرانا چاہیے‘‘ کا مطلب ہے کہ ’’جاپان کو انہیں دوبارہ نہیں دہرانا چاہیے‘‘، جبکہ ’’جنگ کی ہولناکیوں کو دوبارہ کبھی نہیں دہرایا جانا چاہیے‘‘ سے مراد ہے کہ ’’دوسرے فریق، یعنی جاپان کے سوا دیگر ممالک کو انہیں دوبارہ دہرانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘


