شی ننگ (شِنہوا) شِنہوا نیوز ایجنسی سے منسلک ایک تھنک ٹینک نے بدھ کے روز ایک رپورٹ جاری کی جس میں کون لون ثقافت کے تاریخی ماخذ، روحانی جوہر اور عصر حاضر میں اس کی اہمیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔
شِنہوا نیوز ایجنسی کے قومی اعلیٰ سطح کے تھنک ٹینک نے چین کے شمال مغربی صوبے چھنگ ہائی کے دارالحکومت شی ننگ میں منعقدہ کون لون کلچر فورم کے موقع پر رپورٹ کے چینی اور انگریزی نسخے جاری کئے۔
رپورٹ میں کون لون ثقافت کو چینی تہذیب کے اہم ماخذ اور چینی قوم کی اہم روحانی علامت قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ثقافت چین کی عمدہ روایتی ثقافت کو آگے بڑھانے، چینی قوم میں مضبوط اجتماعی احساس پیدا کرنے اور تہذیبوں کے درمیان تبادلے اور باہم سیکھنے کو فروغ دینے کے لئے نظریاتی اور عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
چین کے مغربی حصے میں 2 ہزار 500 کلومیٹر سے زیادہ رقبے تک پھیلے ہوئے اور اوسطاً 5 ہزار میٹر سے زائد بلندی رکھنے والے بلند و بالا کون لون پہاڑوں کو طویل عرصے سے ’’تمام پہاڑوں کے جد امجد اور تمام دریاؤں کے منبع‘‘ کے طور پر عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں آثار قدیمہ کے شواہد اور تاریخی ریکارڈز کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ کون لون ثقافت 3 پہلوؤں میں مختلف نسلی گروہوں کے مشترکہ ماخذ اور باہمی بقا کی تاریخی یادیں سمیٹے ہوئے ہے جن میں قدیم چینی لوگوں کا کائناتی تصور، چینی قوم کا روحانی وطن اور قدیم چین کی علاقائی علامت شامل ہیں۔ رپورٹ میں چینی تہذیب کے تنوع میں اتحاد اور کشادہ دلی کی بھی توثیق کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کون لون ثقافت کی پانچ بنیادی اقدار کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے، جن میں انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی، عظیم اتحاد، مسلسل خود کو مضبوط بنانا، زندگی کی قدر اور عوام کی دیکھ بھال اور پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنا شامل ہیں۔
ہزاروں سال پر محیط ثقافتی ورثے اور مختلف نسلی گروہوں کے باہمی امتزاج میں جڑی یہ اقدار چینی تہذیب کے کائناتی تصور، ریاستی تصور، عزم و استقامت کے جذبے، عوام دوست سوچ اور عالمی نقطہ نظر کی تشکیل کا باعث بنی ہیں۔
نئے دور میں کون لون ثقافت نے تخلیقی تبدیلی اور اختراع پر مبنی ترقی کے مراحل طے کئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مقامی علاقوں نے کون لون ثقافت کے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ثقافتی ورثے کے تحفظ، نسلی اتحاد، ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے مربوط کوششیں کی ہیں۔
موضوعاتی مطالعاتی دوروں، لوک فنون کے مظاہروں اور ثقافت و سیاحت کے مربوط فروغ جیسے اقدامات کے ذریعے یہ علاقے ثقافتی ورثے کے تسلسل، قومی جذبے کے فروغ اور عوام کی آمدنی و فلاح و بہبود میں بہتری حاصل کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’کون لون ثقافت میں پوشیدہ دانش کا کھوج لگانا تہذیبوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنے اور ترقی کے مسائل حل کرنے کے لئے ایک معتدل مگر گہرا چینی طریقہ کار فراہم کر سکتا ہے۔‘‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کون لون ثقافت میں موجود ’’انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی‘‘ اور ’’پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنے‘‘ کے تصورات ماحولیاتی مسائل، تہذیبی دوریوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے نمٹنے اور انسانیت کے لئے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کو آگے بڑھانے کے لئے قیمتی مشرقی دانش فراہم کرتے ہیں۔
چینی دیومالائی کہانیوں میں کون لون ایک مقدس چوٹی ہے جہاں مغرب کی ملکہ ماں رہتی ہیں، جبکہ چینی قوم کے ثقافتی جد امجد زرد شہنشاہ نے تہذیب میں رسومات اور موسیقی کے دور کے آغاز کے لئے یہاں محلات تعمیر کئے تھے۔
کم از کم 20 نسلی گروہ، جن میں چھیانگ، یی، جنگ پو اور پومی شامل ہیں، اپنی نسل کا تعلق کون لون پہاڑوں کے دامن سے جوڑتے ہیں۔ جدید دور سے کون لون چینی عوام کے لئے ایک روحانی وطن کی حیثیت رکھتا ہے اور قومی بحران کے ادوار میں قومی جذبے کو بیدار کرنے کے لئے اکثر اس کی مدح سرائی کی جاتی رہی ہے۔


