ایسٹ افریقہ فیشن لائف شو کا تیسرا ایڈیشن 13 سے 15 اگست تک کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں منعقد ہوا۔
اس تین روزہ ایونٹ میں چین کی تقریباً 100 کمپنیوں اور کینیا کی لگ بھگ 20 کمپنیوں نے شرکت کر کے فیشن، طرزِ زندگی اور صارفین کی مختلف مصنوعات پیش کیں۔
چین کی تیارکردہ مختلف اقسام کی گھڑیاں نمائش کے شرکا کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): فیتھ نڈیلا، نمائش میں شریک مہمان
’’میں یہاں کاروباری شراکت دار تلاش کرنے اور چین سے اپنے دیگر کاروباری شراکت داروں سے ملاقات کے لئے آئی ہوں۔ دیکھتے ہیں کہ معاملات کیسے آگے بڑھتے ہیں۔ مجھے گھڑیوں کا بھی شوق ہے۔ اسی لئے یہاں موجود گھڑیوں نے میرا دل جیت لیا ہے۔‘‘
نمائش کنندگان کے مطابق کینیا کےجغرافیائی محل وقوع اور علاقائی منڈیوں تک رسائی نے اسے مشرقی افریقہ میں کاروبار شروع کرنے کے لئے ایک پرکشش دروازہ بنا دیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): لی وائی، نمائش کنندہ، ہونان رِکاس واچ مینوفیکچرنگ کمپنی
’’کینیا میں بہت سی بندرگاہیں ہیں۔ اس سے افریقہ کے بہت سے ممالک کو مدد ملے گی۔ وہ کینیا کی منڈی کے ذریعے اشیا کو اپنے ممالک تک منتقل کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے لئے دیگر ممالک بالخصوص چین سے اشیا درآمد کرنا یا اپنی مصنوعات برآمد کرنا زیادہ آسان اور سہل ہو جاتا ہے۔‘‘
کینیا کے کاروباری حلقے بھی کہتے ہیں کہ گھڑیوں کی مقامی منڈی میں نئے کاروباری افراد کے لئے خاص طور پر تھوک اور پرچون کے شعبوں میں کافی گنجائش موجود ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): فیتھ ویرِیمو متوری، درآمد کنندہ
’’اس منڈی میں بہت کم کاروباری ادارے موجود ہیں۔ گھڑیوں کے تھوک فروش بھی بہت کم ہیں اور یہاں دیگر صنعتوں کے مقابلے میں پرچون فروشوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ اس لئے نئے لوگوں کے لئے منڈی میں آنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔‘‘
نیروبی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


