نیپال (لارڈ میڈیا): نیپال اور چین کے تبت کی سرحد پر گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 675 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈھائی ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ نیپال نے عالمی برادری سے ہنگامی تکنیکی اور مالی امداد کی اپیل کی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ تباہی بدھ کو گلیشیئر کے حصے کے زمین بوس ہونے سے شروع ہوئی، جس کی شدت زلزلے کی پیمائش والے آلات پر 5.2 ریکارڈ کی گئی۔ یہ سیلاب ترشولی اور بھوٹے کوشی ندیوں میں خطرناک ریلہ لے آیا، جس نے سو کلومیٹر دور تک علاقوں کو نقصان پہنچایا۔
چین کے سرکاری میڈیا نے ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں سے ہولناک مناظر جاری کیے ہیں جن میں کیچڑ، پانی اور پتھروں کے ریلے کو گیرونگ بارڈر پورٹ کی عمارتوں کو تباہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
چین کے دو ہزار سے زائد ریسکیو اہلکار ڈرونز اور خصوصی ٹیموں کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں تلاش و بچاؤ کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ تاہم، مسلسل بارش اور مزید سیلاب کے خطرات کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
نیپال کے محکمہ موسمیات نے علاقے میں مزید بارشوں کا یلو الرٹ جاری کیا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ گلیشیئر کے ملبے سے بننے والی جھیل سے پانی کا بہاؤ اور ندیوں کے بند ہونے کے خدشات نے انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
تبت میں لاپتا ہونے والے 500 سے زائد افراد میں 24 ممالک کے 250 غیر ملکی شامل ہیں، جن میں آسٹریلیا، برطانیہ، بھارت اور دیگر یورپی ممالک کے شہری شامل ہیں۔ نکالے جانے والے بعض جسدِ خاکی کی شناخت ممکن نہیں رہی، اس لیے ڈی این اے نمونے حاصل کر کے تدفین کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال نے کہا ہے کہ نیپال کو سرنگوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے، پلوں کی تباہی کے بعد مواصلاتی رابطے بحال کرنے اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے غیر ملکی ماہرین کی ضرورت ہے۔ بھارت اور چین سے امدادی سامان نیپال پہنچ رہا ہے۔


