اسلام آباد (لارڈ میڈیا) : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد دنیا کے 401 شہروں کی تازہ سیفٹی رینکنگ میں 83ویں نمبر پر آگیا ہے۔ اسلام آباد نے لندن، ماسکو، ٹورنٹو، گلاسگو اور استنبول جیسے بڑے شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق رواں سال شہر میں رپورٹ ہونے والے قتل کے مقدمات میں 100 فیصد شرحِ تفتیش و گرفتاری حاصل کی گئی اور قتل کے تمام مقدمات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ رواں سال حل کیے جانے والے اہم مقدمات میں گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس، ایچ نائن ٹرپل مرڈر کیس، تاجر عامر اعوان قتل کیس، سردار فہیم قتل کیس اور الفلاح بینک ڈکیتی کیس شامل ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق 2026 میں 2025 کے مقابلے میں پراپرٹی کرائم کے واقعات میں 27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 1,499 واقعات کم رپورٹ ہوئے۔ ڈکیتی، راہزنی، قتل اور گاڑی چوری سمیت بڑے جرائم میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ دارالحکومت میں انسداد دہشت گردی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت مزید بہتر بنانے کے لیے ایس ڈبلیو اے ٹی اور ڈیلٹا فورس کے خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق سیاحوں اور دیگر شہریوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے مارگلہ ٹریل پٹرول یونٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جس میں گھڑ سوار، پیدل اور موٹر سائیکل اسکواڈ شامل ہیں۔ تجارتی علاقوں میں سٹی واچرز اور نائٹ پٹرولنگ افسران بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ عوامی مقامات پر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
دارالحکومت میں دھماکا خیز مواد اور دیگر خطرناک اشیا کی نشاندہی کے لیے کے نائن یونٹ قائم کیا گیا ہے، جبکہ اسپیشل پروٹیکشن یونٹ چینی شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق اسپیشل انیشی ایٹو پولیس اسٹیشنز منصوبے کے تحت شہر کے مختلف تھانوں کی تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے۔
اسلام آباد کے سیف سٹی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ نگرانی، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے انتظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ پولیس نے رواں سال منشیات فروشی کے الزام میں 1,144 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور جرائم کے خلاف کارروائیوں کے دوران 14,645 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔


