چین کی مقبول ترین فلم ’ڈیئر یو‘ جب میانمار کے ناظرین تک پہنچی تو اسے یہاں بھی زبردست پذیرائی ملی۔ ناظرین فلم کی کہانی میں اپنی زندگی کے تجربات کی جھلک دیکھتے ہیں جہاں یکجہتی، ہمدردی اور ثابت قدمی جیسی خوبیاں نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں۔
جمعرات کے روز یانگون میں فلم کے پریمیئر کے موقع پر سنیما ناظرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
تاریخی ’’چیاؤ پی‘‘ ثقافت سے جڑی اس فلم کی زیادہ تر عکس بندی تیوچیو زبان کے لہجے میں کی گئی ہے جبکہ اس میں بڑی تعداد میں غیر پیشہ ور اداکاروں نے کام کیا ہے۔ اس فلم کا چین کے مین لینڈ میں باضابطہ پریمیئر اپریل میں ہوا تھا جس کے بعد اسے تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ویتنام اور میانمار سمیت جنوب مشرقی ایشیا کی مختلف مارکیٹوں میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔
تقریب میں یانگون یونیورسٹی آف فارن لینگویجز (وائی یو ایف ایل) کے اساتذہ اور چینی زبان کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (برمی): ہتے ہتے میِنٹ، ایسوسی ایٹ پروفیسر، چینی شعبہ، یانگون یونیورسٹی آف فارن لینگویجز (وائے یو ایف ایل)
’’اس فلم کے ذریعے میں نے سیکھا کہ ہمارا تعلق خواہ کسی بھی قومیت سے ہو یا ہم کہیں بھی رہتے ہوں ہمیں اپنے لوگوں کے وقار کو برقرار رکھنا چاہئے۔ ہمیں اپنی برادری کے اندر ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہئے اور ایک دوسرے کی مدد بھی کرنی چاہئے ۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (برمی): آنگ نیئن ٹون، طالبعلم سال دوم، شعبہ چینی زبان، یانگون یونیورسٹی آف فارن لینگویجز (وائے یو ایف ایل)
’’میں نے فلم سے سیکھا کہ محبت اور اپنائیت کس قدر اہم ہیں۔ جب تک ہمارے پیارے ہمارے ساتھ ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہئے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ فلم میں تین زبانوں میں سب ٹائٹلز بھی ہیں اور چینی سب ٹائٹلز زیادہ مشکل نہیں کیونکہ ان میں بنیادی الفاظ زیادہ استعمال کئے گئے ہیں۔ میرے خیال میں فلم دیکھتے ہوئے اس سے ہمیں چینی زبان سیکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔‘‘
یانگون، میانمار سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


