یی لی اولڈ ٹاؤن کا ثقافتی و سیاحتی علاقہ 42 نسلی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا مسکن ہے اور یہاں غیر مادی ثقافتی ورثے کی مختلف اقسام موجود ہیں۔
زِین بنانے کا ہنر ایک قدیم فن ہے جو قازق، منگول اور دیگر نسلی برادریوں میں نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔
56 سالہ کتلک سلطان نے گزشتہ چار دہائیوں سے خود کو اس قدیم ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے وقف کر رکھا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (ویغور): کتلک سلطان، زین بنانے والا ہنرمند
’’میں نے یہ ہنر اپنے والد سے سیکھا۔ کچھ زِینیں تیار کرنے میں پورا دن لگتا ہے جبکہ کچھ ایسی ہیں جن کے لئے دو دن درکار ہوتے ہیں۔ تھوک فروش آرڈر دینے آتے ہیں اس لئے ہمارا کام کبھی نہیں رکتا۔ میرے 15 شاگرد ہیں اور وہ سب اپنا اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔‘‘
روایتی زِین سازی کے ہنر سے متاثر ہو کر چین کے مشرقی صوبہ جیانگ شی سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان یہاں چمڑے کے فن میں نئی جان ڈال رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): چاؤ ہونگ بِن، چمڑے کے فن کا نمائندہ وارث
’’روایتی زین سازی کی تکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے ہم نے ثقافتی اور تخلیقی مصنوعات کی ایک رینج تیار کی ہے جن میں نقش و نگار والے چمڑے کے فریج میگنیٹ اور لاکٹ شامل ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو لوگوں کی روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
یہ نقش زِینوں سے اخذ کئے گئے ہیں۔ ہم ان نقش و نگار کو چمڑے کے کلائی بندوں پر بناتے ہیں۔ نوجوان سیاح ان چھوٹے یادگاری تحائف کو بہت پسند کرتے ہیں۔
ہماری فروخت حوصلہ افزا رہی ہے۔ کاروبارکے عروج کے دنوں میں یومیہ فروخت 10 ہزار یوآن ( تقریباً 1490 امریکی ڈالر) تک پہنچ جاتی تھی جبکہ اس وقت اوسطاً یومیہ فروخت 7 ہزار سے 8 ہزار یوآن(تقریباً 1040 سے 1190امریکی ڈالر) ہے۔
سنکیانگ مختلف نسلی برادریوں کی ثقافتوں کا مرکز ہے۔ ہم مختلف نسلی برادریوں کی ثقافتوں کے عناصر کو چمڑے کے فن میں شامل کر سکتے ہیں۔ ہماری تخلیقی کاوشوں کا بنیادی ذریعہ یہی ہے۔‘‘
سماور رقص ایک روایتی ویغور استقبالی رقص ہے جو اب اس سیاحتی علاقے کی نمایاں ثقافتی پیشکش بن چکا ہے۔
72 سالہ جُماکارے باہیتی تقریباً 40 برس سے سر پر چائے کی ٹرے متوازن رکھنے کے اس فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (ویغور): جُماکارے باہیتی، سماور رقص کا نمائندہ وارث
’’میں نے آٹھ برس کی عمر میں اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ میں تقریباً 40 برس سے سماور رقص پیش کر رہا ہوں۔ میں نے فنکاروں کی ٹیم میں تین سے چار رقاصوں کو یہ فن سکھایا اور اب میرا پوتا بھی اسے سیکھ رہا ہے۔‘‘
سُوبی ہامیتی اس ثقافتی ورثے میں نئی جان ڈالنے والی اگلی نسل کے نمائندوں میں شامل ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): سُوبی ہامیتی، سربراہ فنکار ٹیم، ثقافتی و سیاحتی علاقہ یی لی اولڈ ٹاؤن
’’میرے خیال میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے سیکھیں، اسے آگے منتقل کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس ثقافت سے آگاہی دیں۔ جُماکارے باہیتی کی پیشکش لوک رقص کی حرکات پر مبنی ہے۔ ہم نے اس میں جدید، نئے اور پیشہ ورانہ عناصر شامل کئے ہیں۔ اس طرح روایت اور جدت کو یکجا کرکے ایک منفرد اور تخلیقی بصری پیشکش تیار کی گئی ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): جِنگ چھِنگ حہ، یی نِنگ میونسپل بیورو آف کلچر، اسپورٹس، ریڈیو، ٹیلی ویژن اینڈ ٹورازم
’’ یی نِنگ شہر میں اس وقت مجموعی طور پر غیر مادی ثقافتی ورثے کی 158 اقسام اور ان کے 107 وارث موجود ہیں۔ ان 158 اقسام میں سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے کی 10 مقامی نسلی برادریوں کی ثقافتی روایات شامل ہیں جبکہ تقریباً ہر ورثے کے لئے اسے آگے منتقل کرنے والے باقاعدہ وارث بھی موجود ہیں۔‘‘
یی نِنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


