ہومتازہ ترینامریکہ۔اسرائیل بمقابلہ ایران: تصادم کا نیا معاشی مرحلہ

امریکہ۔اسرائیل بمقابلہ ایران: تصادم کا نیا معاشی مرحلہ

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا یہ اعلان کہ واشنگٹن ایران پر ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ عائد کرنے جا رہا ہے اور ناکہ بندی و معاشی پابندیوں کا مشترکہ دباؤ بالآخر ’’ایرانی حکومت کو گرا دے گا‘‘، امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جارہی ہے۔
تاہم اصل سوال محض یہ نہیں کہ معاشی پابندیاں ایران کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا معاشی تکلیف کسی ریاست کو سیاسی طور پر جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے، یا اس کے نتیجے میں ایک وسیع تر علاقائی اور عالمی بحران جنم لے سکتا ہے؟ یہ فرق نہایت اہم ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
تقریباً چھ ماہ سے جاری اس تنازعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ محض فوجی برتری لازمی طور پر فوری سیاسی کامیابی یا پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔
اب واشنگٹن بظاہر فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشی جبر پر زیادہ انحصار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران کی تیل کی منڈیوں، مالیاتی ذرائع، بحری تجارت اور بین الاقوامی اقتصادی روابط تک رسائی محدود کرنا اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی کارروائی کو کسی ملک کے خلاف کی جانے والی ’’سب سے زیادہ تباہ کن معاشی کارروائی‘‘ قرار دیا ہے اور ان ممالک کو بھی نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے جو ایران کے ساتھ معاشی روابط جاری رکھیں گے۔
اسکاٹ بیسنٹ کا مؤقف اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ان کا پیغام عملاً یہ ہے کہ ’’یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف‘‘۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ صرف ایران کو پابندیوں کا نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ تہران کے گرد ایک عالمی معاشی حصار قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہیں سے حکمتِ عملی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
معاشی پابندیاں اس وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہیں جب دنیا کی بڑی معاشی طاقتیں ان پر متفق ہوں۔ لیکن آج کی عالمی معیشت 1990ء کی دہائی کی نسبت کہیں زیادہ کثیر قطبی ہو چکی ہے۔ چین، روس، بھارت اور دیگر ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے اپنے مفادات، ترجیحات اور سفارتی پیرامیٹرز ہیں۔
لہٰذا ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوشش خود واشنگٹن کے لیے بھی ایک امتحان بن سکتی ہے کہ وہ عالمی اقتصادی تعاون کو کس حد تک اپنے مطلوبہ راستے پر لے جا سکتا ہے۔
اس پورے معاملے میں شاید سب سے اہم اور پیچیدہ سوال چین کا ہے۔
بیسنٹ نے ابھی تک براہِ راست یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے چینی اداروں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں، تاہم انہوں نے بیجنگ کو تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔
چین کے لیے معاملہ محض سیاسی نہیں بلکہ توانائی اور اقتصادی سلامتی کا بھی ہے۔
اگر امریکہ چینی کمپنیوں، بینکوں یا توانائی کے شعبے سے وابستہ اداروں کو ایران کے ساتھ تجارت کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر پابندیوں کا نشانہ بناتا ہے تو تنازعہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں رہے گا۔ یہ ایک نئے اور خطرناک امریکہ۔چین اقتصادی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال کسی بھی فریق کے لیے آسان نہیں ہوگی۔
چین خلیجِ فارس کی توانائی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور اس کے لیے آبنائے ہرمز کی بحالی یقیناً اہم ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بیجنگ ایران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی امریکی حکمتِ عملی کو بھی قبول کر لے۔
دوسرے لفظوں میں چین آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ایران کو معاشی طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی امریکی حکمتِ عملی کی حمایت کرے۔
یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک اور اہم ترین پہلوآبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران پر امریکی دباؤ ہے اور دنیا کے اکثر ممالک اس حوالے سے واضع موقف دینے سے گریزاں ہیں اور امریکہ اس صورتحال کو دنیا کی کمزوری کے ضمن میں لے رہا ہے جبکہ موجودہ صورتحال میں اس کا تنازعہ کا محور ومرکز آبنائے ہرمز بن چکا ہے اور یہ محض ایران اور امریکہ کے درمیان عسکری کشمکش کا ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ عالمی معیشت کی ایک اہم شہ رگ ہے۔ خلیج سے گزرنے والی توانائی کی ترسیل میں اس آبنائے کی اہمیت پوری دنیا کے لیے غیر معمولی ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد اگر یہاں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ لازمی نتیجہ کے طور پر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے، افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے اور دنیا کی بڑی معیشتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
ایران کے لیے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے کی صلاحیت یقیناً ایک اہم تزویراتی leverage ہے، لیکن اس اختیار کی ایک قیمت بھی ہے۔
آمدورفت میں خلل نہ صرف مغربی معیشتوں بلکہ ایشیا کے ان ممالک کو بھی متاثر کرتا ہے جو خلیجی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
یہی حقیقت واشنگٹن کے لیے بھی ایک مسئلہ پیدا کرتی ہے۔
اگر ایران پر معاشی دباؤ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ تہران توانائی کی ترسیل میں مزید رکاوٹیں پیدا کرتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ خود ان معاشی مقاصد کو نقصان پہنچا سکتا ہے جن کے حصول کے لیے پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
پابندیاں ایران کو کمزور کر سکتی ہیں، لیکن مہنگی توانائی پابندیاں لگانے والی معیشتوں کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔
یہی معاشی جنگ کا بنیادی تضاد ہے۔
کیا پابندیاں واقعی ایران کو ’’گرا‘‘ سکتی ہیں؟
تاریخ یہاں ہمیں محتاط رہنے کا سبق دیتی ہے۔
ایران کئی دہائیوں سے مختلف نوعیت کی امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت کو یقیناً شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سرمایہ کاری میں رکاوٹ، مالیاتی تنہائی، تیل کی فروخت میں مشکلات، کرنسی پر دباؤ اور عام شہریوں کی قوتِ خرید میں کمی اس کے نمایاں اثرات ہیں۔
لیکن اس کے باوجود صرف پابندیاں ایرانی حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ اگر امریکہ مالیاتی اداروں، بینکوں، شپنگ کمپنیوں، توانائی کے تاجروں اور دیگر بین الاقوامی ثالثوں کے خلاف ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرتا ہے تو ایران پر دباؤ یقیناً بہت بڑھ سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے:
معاشی تباہی اور سیاسی تباہی ایک ہی چیز نہیں۔
معاشی مشکلات سے دوچار عوام لازماً اپنی حکومت کے خلاف نہیں ہو جاتے۔ بعض اوقات بیرونی دباؤ کے نتیجے میں قوم پرستی مزید مضبوط ہوتی ہے، سیاسی اختلافات کم ہوتے ہیں اور مزاحمت کو قومی خودمختاری کے دفاع کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔
اس لیے یہ کہنا کہ پابندیاں لازماً ایرانی حکومت کو ’’گرا دیں گی‘‘ ایک سیاسی پیش گوئی تو ہو سکتی ہے، لیکن اسے معاشی یقین دہانی نہیں کہا جا سکتا۔
اب انسانی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پابندیوں کا اصل بوجھ کون اٹھاتا ہے؟ یقینآ ایک عام شہری۔۔۔۔
اس تنازعے کے اس اہم پہلو کو نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔
اقتصادی پابندیوں کا مقصد حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے، لیکن ان کے اثرات اکثر عام شہریوں تک پہنچتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، اشیائے ضروریہ کی قلت، کرنسی کی قدر میں کمی اور قوتِ خرید کا خاتمہ ایک عام ایرانی شہری کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہاں ایک مشکل اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا کسی حکومت کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے ایسی معاشی حکمتِ عملی اختیار کرنا درست ہے جس کا طویل مدتی بوجھ پوری آبادی کو برداشت کرنا پڑے؟
واشنگٹن کا مؤقف یہ ہوگا کہ ایران کے جوہری پروگرام، عسکری صلاحیتوں اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا عالمی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
تہران، ظاہر ہے، ایسی پابندیوں کو معاشی جارحیت قرار دے گا۔
ایک غیر جانب دار تجزیے میں دونوں پہلوؤں کو تسلیم کرنا ہوگا یعنی سلامتی کا خدشہ بھی حقیقی ہے اور انسانی قیمت بھی۔
نئی امریکی حکمتِ عملی کا شاید سب سے اہم پہلو خود ایران پر پابندیاں نہیں بلکہ ان ممالک اور کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا امکان ہے جو تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں معاشی پالیسی جغرافیائی سیاسی طاقت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اگر پاکستان، بھارت، چین، ترکی یا خلیجی ممالک کی کسی کمپنی کو یہ انتخاب کرنا پڑے کہ وہ ایران کے ساتھ محدود تجارتی تعلق برقرار رکھے یا امریکی مالیاتی نظام تک اپنی رسائی محفوظ رکھے، تو انتخاب بظاہر مشکل نہیں ہوگا۔
لیکن اس پالیسی کا ایک طویل مدتی ردِعمل بھی ہو سکتا ہے۔
بار بار معاشی دباؤ اور ثانوی پابندیوں کا استعمال دیگر ممالک کو متبادل ادائیگی کے نظام، علاقائی کرنسیوں، باہمی تجارتی انتظامات اور مختلف مالیاتی نیٹ ورکس کی طرف جانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
یوں ایران کو تنہا کرنے کے لیے شروع کیا گیا اقدام مستقبل میں عالمی اقتصادی نظام کی مزید تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان ایک حساس اور پیچیدہ پوزیشن میں کھڑا ہو گا اور پاکستان کے لیے یہ صورتحال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ پاکستان اس تنازعے کو صرف واشنگٹن یا تہران کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس کے دونوں جانب اقتصادی، جغرافیائی، سلامتی اور سفارتی مفادات موجود ہیں۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، جبکہ امریکہ، خلیجی ممالک اور چین کے ساتھ بھی پاکستان کے اہم اقتصادی اور تزویراتی تعلقات ہیں۔
خلیج میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی پاکستان کے لیے تیل کی قیمتوں، تجارت، افراطِ زر، نقل و حمل، زرمبادلہ اور مجموعی معاشی استحکام کے حوالے سے سنگین اثرات پیدا کر سکتی ہے۔
اس لیے اسلام آباد کے لیے نہ تو غیر ضروری محاذ آرائی دانشمندانہ ہوگی اور نہ ہی کسی ایک فریق کے ساتھ غیر مشروط وابستگی۔
پاکستان کو اصولی طور پر آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت، شہریوں کا تحفظ، بین الاقوامی قانون کا احترام، سفارتی مذاکرات، علاقائی کشیدگی میں کمی اور جلد از جلد مذاکراتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
مزید یہ کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا کسی ایک فریق کی فتح یا شکست کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عالمی اقتصادی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اگرچہ امریکہ کے پاس غیر معمولی اقتصادی طاقت موجود ہے۔
ڈالر، عالمی مالیاتی ادارے، بینکنگ نظام، ٹیکنالوجی، بڑی مارکیٹیں اور عالمی مالیاتی روابط واشنگٹن کو ایسے ذرائع فراہم کرتے ہیں جو دنیا کے بہت کم ممالک کے پاس ہیں۔
لیکن طاقت اور بے تحاشا اثرورسوخ کا اندھا دھند استعمال کسی بھی لحاظ سے قابل قدر چیز نہیں۔
بیسنٹ کی حکمتِ عملی کا اصل امتحان یہ نہیں ہوگا کہ ایران کو معاشی نقصان پہنچتا ہے یا نہیں۔ نقصان کا امکان یقیناً ہے۔
اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا اس حکمت عملی سے واشنگٹن وہ متوقع سیاسی نتائج حاصل کرسکتا ہے یا نہیں؟ خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی عسکری کردار اور آبنائے ہرمز کی آزادانہ آمدورفت کے حوالے سے۔
اگر تہران بالآخر کمزور پوزیشن میں مذاکرات کی میز پر آتا ہے تو واشنگٹن اسے اپنی حکمتِ عملی کی کامیابی قرار دے سکتا ہے۔
لیکن اگر ایران دباؤ برداشت کرتا ہے، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرتا ہے، اندرونی مزاحمت کو قومی خودمختاری کے بیانیے میں تبدیل کرتا ہے اور جنگ طویل ہوتی جاتی ہے تو امریکہ کو یہ احساس ہو سکتا ہے کہ معاشی جبر کی تاثیر بھی ایک حد رکھتی ہے۔
اور اگر ثانوی پابندیاں چین، بھارت، یورپ یا دیگر بڑی تجارتی طاقتوں کے ساتھ شدید اختلاف پیدا کرتی ہیں تو معاشی جنگ بالآخر ایک بڑے سوال میں تبدیل ہو سکتی ہے:
عالمی اقتصادی نظام کے قواعد کون طے کرے گا؟
فتح اور شکست سے آگے
اس پورے تنازعے میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ دونوں فریق کامیابی کو صرف دوسرے فریق کی شکست یا مکمل پسپائی سے تعبیر کرنے لگیں۔
جنگیں صرف اس اعلان سے ختم نہیں ہوتیں کہ ایک فریق نے فتح حاصل کر لی ہے۔
امریکہ ایک محفوظ علاقائی نظام، ایران کی جوہری صلاحیت پر پابندی اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت چاہتا ہے۔
ایران اپنی خودمختاری، سلامتی، معاشی بقا اور بیرونی عسکری و اقتصادی دباؤ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
خطے کو استحکام چاہیے۔
عالمی معیشت کو بلا تعطل توانائی کی فراہمی چاہیے۔
یہ تمام مقاصد لازماً ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ انہیں اس وقت مذاکرات اور مفاہمت کے بجائے تصادم کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
میرے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ
آخر عالمی نظام کتنی معاشی، انسانی اور جغرافیائی سیاسی قیمت ادا کر سکتا ہے، اس سے پہلے کہ تمام فریق یہ تسلیم کر لیں کہ مذاکرات کے ذریعے حاصل ہونے والا امن، جنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی فتح سے کہیں زیادہ اہم اور ضروری ہے؟
پابندیوں کی تاریخ ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے:
معاشی دباؤ کسی حکومت کو مذاکرات کی میز تک ضرور لا سکتا ہے، لیکن یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ مذاکرات کے بعد کیا نتیجہ نکلے گا۔ آبنائے ہرمز پر تنازعہ ہماری توجہ ایک اور حقیقت کی جانب مبذول کراتی ہے کہ آج کی باہم مربوط عالمی معیشت میں دو ریاستوں کے درمیان شروع ہونے والا تنازعہ بہت جلد پوری دنیا کا معاشی مسئلہ بن سکتا ہے۔
لہٰذا ریاستی دانش کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون سخت پابندی عائد کر سکتا ہے یا کون سب سے زیادہ تباہ کن فوجی حملہ کر سکتا ہے۔
اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ کون زیادہ سے زیادہ دباؤ کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج واشنگٹن، تہران، یروشلم اور پوری عالمی برادری کے سامنے اصل امتحان یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ نہیں، بلکہ کم سے کم انسانی اور عالمی نقصان کے ساتھ پائیدار امن کا راستہ تلاش کرنا۔
کیونکہ آخرکار تاریخ جنگ کی شدت سے زیادہ امن کی پائیداری کو یاد رکھتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں