بیجنگ (شِنہوا) جیسے جیسے دنیا کے کلاس رومز مصنوعی ذہانت کی انقلابی اور روایتی نظام کو بدلنے والی صلاحیتوں کے اثرات سے نمٹ رہے ہیں، تعلیم کے مستقبل کے بارے میں ایک بنيادی سوال ابھرتا ہے کہ جب مشینیں انسانوں سے زیادہ بہتر سوچ سکتی ہیں تو پھر سکولنگ کا کیا مقصد ہے؟
یہ سوال حال ہی میں بیجنگ میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا، جہاں دنیا بھر سے ماہرین تعلیم، پالیسی ساز اور صف اول کے اساتذہ نے ایک جگہ جمع ہو کر مصنوعی ذہانت کے دور میں تدریس کے نئے ماڈلز وضع کرنے پر غور کیا۔
سرحد پار ہونے والے پرجوش تبادلوں کے دوران ایک حقیقت واضح ہوئی کہ چین میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیم کے بڑے پیمانے پر جاری تجربات، جن میں مختلف شعبوں کے ساتھ اے آئی کا امتزاج اور اے آئی تدریسی معاونین شامل ہیں، نے اسے بیشتر دیگر ممالک سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔
چین کے نائب وزیر تعلیم اور یونیسکو کے لئے چینی قومی کمیشن کے صدر رین یوچھون نے گلوبل سمارٹ ایجوکیشن کانفرنس 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین نے مصنوعی ذہانت اور تعلیم کے امتزاج کو قومی ترجیح قرار دیا اور ملک ایک ایسی ڈیجیٹل تعلیمی حکمت عملی کو آگے بڑھا رہا ہے جو تمام تدریسی عناصر، مراحل اور ہر قسم کے تعلیمی ماحول میں سمارٹ ٹیکنالوجیز کو شامل کرتی ہے۔
چین نے "اے آئی پلس ایجوکیشن” ایکشن پلان متعارف کرایا جو صلاحیتوں کی آبیاری، جدید اطلاق، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لئے منظم انتظامات فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ آزمائشی پروجیکٹس اور الگ تھلگ تجربات سے نکل کر پورے نظام میں جامع اور مکمل نفاذ کی طرف حکمت عملی میں ایک بڑے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
چینی ٹیک کمپنیاں اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تیزی سے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی نامور کمپنی ہواوے کے گلوبل پبلک سیکٹر بزنس یونٹ کے نائب صدر ژانگ چھینگ تاؤ کے مطابق ہواوے نے اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنا اے آئی پریکٹس لیب (اے آئی پی ایل) متعارف کرایا ہے۔ اس کا مقصد کثیر الموضوعاتی پلس اے آئی ماڈل کے ذریعے بین الشعبہ جاتی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے جو محض مصنوعی ذہانت کا علم حاصل کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت پر مبنی عملی مشقوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
مارچ 2026 میں بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ہواوے نے مشترکہ طور پر ایک اے آئی پی ایل قائم کی جو تین بین الضابطہ شعبوں یعنی مجسم ذہانت پلس اے آئی، قانون پلس اے آئی اور کیمسٹری پلس اے آئی پر محیط ہے۔ ژانگ نے کہا کہ یہ لیبارٹری طلبہ کی عملی مہارتوں کو نکھارنے کے لئے حقیقی دنیا کے احوال اور ڈیٹا کا استعمال کرتی ہے۔
اس پیشرفت میں شامل ہوتے ہوئے ایک اور چینی ٹیک فرم آئی فلائی ٹیک نے حال ہی میں "سپارک لائٹ” نامی مصنوعی ذہانت سے لیس ایک سپر ایجنٹ متعارف کرایا جو اساتذہ کے لئے ون سٹاپ اسسٹنٹ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ اسباق کی منصوبہ بندی، طلبہ کے جائزے، گھر اور سکول کے درمیان رابطے اور انتظامی امور پر محیط ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد اساتذہ کو دہرائے جانے والے کاغذی کاموں سے آزاد کرنا ہے تاکہ وہ تدریس پر زیادہ وقت صرف کر سکیں۔


