تہران (شِنہوا) ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے دیگر جابرانہ اقدامات کی طرح امریکی اقتصادی کارروائی بھی ناکامی سے دوچار ہوگی۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ "14 سال پہلے: تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن پابندیاں، ناکام۔ 8 سال پہلے: زیادہ سے زیادہ دباؤ، ناکام۔ 5 ماہ پہلے: غیر مشروط ہتھیار ڈالنا، ناکام، اور آج اب تک کی سب سے شدید اقتصادی کارروائی کی ناکامی بھی یقینی ہے۔”
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کے روز اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ ایران کو سہارا فراہم کرنے والے کسی بھی ملک کے خلاف "اب تک کی سب سے شدید اقتصادی کارروائی” کی جائے گی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "یہ بے مثال پیمانے پر اقتصادی جنگ اور تنہائی ہوگی۔” انہوں نے اس اقدام کو "اقتصادی ڈی ڈے” قرار دیا۔
18 جون کو امریکہ اور ایران نے خطے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے۔ اس یادداشت کے تحت دونوں ممالک کو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے 60 دن کے اندر مذاکرات کرنا تھے جن کی مدت پیر کو ختم ہوگئی۔ تاہم گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد مذاکرات کا مستقبل بدستور غیر واضح ہے۔


