اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی درخواست خارج کردی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مجرم کی جانب سے پیش کردہ شواہد ناکافی ہیں اور جرم کی سنگینی کے باعث سزا میں کمی نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے بتایا کہ ظاہر جعفر نے ذہنی مریض ہونے کی بنیاد پر عمر قید کی استدعا کی تھی، مگر اس کے حق میں کوئی مضبوط شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد اور عدم تحفظ شرعی اور دنیاوی قوانین کے خلاف ہے۔ اسلام نے خواتین کو تحفظ اور احترام فراہم کیا ہے۔
ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو نور مقدم سے زیادتی اور قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جسے اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔ نظرثانی کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے اور اسے اپیل کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔


