شہر (لارڈ میڈیا) نئی تحقیق کے مطابق، روزانہ گھنٹوں کی ورزش کے بجائے چند منٹ کی شدید جسمانی سرگرمی جسم میں نمایاں حیاتیاتی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے شدید ورزش کے بعد خون میں سیکڑوں پروٹینز میں تبدیلیاں ریکارڈ کی ہیں، جو دل، میٹابولزم اور جسمانی چربی سمیت صحت کے مختلف پہلوؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔
تحقیق میں مختصر دورانیے کی ہائی انٹینسٹی سائیکلنگ کا موازنہ معمول کی رفتار سے کی جانے والی ورزش کے ساتھ کیا گیا۔ شرکا نے ایکسرسائز بائیک پر 30 سیکنڈ کے شدید رفتار والے 30 وقفے کیے جن کے درمیان 4 منٹ کا آرام رکھا گیا۔
نتائج میں شدید ورزش کے بعد خون میں 714 پروٹینز میں تبدیلیاں دیکھی گئیں، جبکہ معمول کی رفتار سے سائیکلنگ کے بعد صرف 7 پروٹینز میں تبدیلیاں ریکارڈ ہوئیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ورزش کی شدت جسم میں حیاتیاتی ردعمل پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
شدید جسمانی سرگرمی کے دوران مختلف کیمیائی سگنلز فعال ہو جاتے ہیں، جن میں Lac-Phe نامی مالیکیول شامل ہے، جو بھوک اور توانائی کے استعمال سے متعلق ہے۔ ان سگنلز کا میٹابولزم اور چربی کے خلیوں پر اثر ہوتا ہے۔
تحقیق میں سامنے آنے والی بعض پروٹین تبدیلیاں دل کی بیماری، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے سے وابستہ مسائل سے منسلک تھیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ 3 منٹ کی ورزش ہر شخص کے لیے 90 منٹ کی سائیکلنگ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ مختلف قسم کی ورزشیں جسم پر مختلف اثرات ڈالتی ہیں اور طویل دورانیے کی معتدل ورزش بھی اہم ہو سکتی ہے۔


