ہومUncategorizedامریکا ایران عبوری معاہدے کی توسیع پر اختلاف

امریکا ایران عبوری معاہدے کی توسیع پر اختلاف

واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کی ڈیڈلائن میں توسیع پر ترک میڈیا کے دعوے کے بعد تہران نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ ترک خبر رساں ایجنسی ‘اناطولو’ کے مطابق معاہدے کی ڈیڈلائن 21 اگست کو ختم ہو رہی ہے اور پاکستان اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ عبوری معاہدے کو بحال کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ توسیع پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی کیونکہ ایران کے نقطہ نظر سے ابھی وقت متعین نہیں ہوا ہے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا نے عبوری معاہدے پر دستخط کے 48 گھنٹے بعد ہی خلاف ورزی کی۔ جون میں ہونے والے اس معاہدے میں فوجی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے جلد ختم کر دیا تھا۔

امریکا کا الزام ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے بحری راستے کو کھولنے کا وعدہ پورا نہیں کیا جبکہ تہران کا موقف ہے کہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران صرف باتیں کرتا ہے اور عمل کچھ نہیں کرتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران نے بھی امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہونے سے تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، منگل کے روز بھی خلیج عمان میں کشیدگی برقرار رہی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں