ہومUncategorizedایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کیلئے نیا ودہولڈنگ ٹیکس ریٹ...

ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کیلئے نیا ودہولڈنگ ٹیکس ریٹ کارڈ جاری کردیا

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے لیے مختلف شعبوں، ادائیگیوں اور لین دین پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں پر مشتمل ودہولڈنگ انکم ٹیکس ریٹ کارڈ جاری کر دیا ہے۔ یہ ریٹ کارڈ فنانس ایکٹ 2026 کے مطابق 30 جون 2026 تک اَپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

ریٹ کارڈ میں مختلف شعبوں، ادائیگیوں اور لین دین پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں شامل ہیں جن میں درآمدات، تنخواہ، منافع، غیر مقیم افراد کو ادائیگی، اشیا، خدمات، معاہدے، برآمدات، کرایہ، انعامات، پیٹرولیم مصنوعات، نقد رقم نکلوانے، موٹر گاڑیوں، بجلی، ٹیلی فون و انٹرنیٹ، غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت شامل ہیں۔

تنخواہ کے حوالے سے قابلِ ٹیکس آمدن 6 لاکھ روپے تک ہونے پر ٹیکس کی شرح صفر، 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک آمدن پر 6 لاکھ سے زائد رقم پر ایک فیصد، 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک آمدن پر 11 فیصد، 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک 25 فیصد، 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک 29 فیصد، 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک 32 فیصد جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

درآمدی اشیا کے لیے مختلف شرحیں رکھی گئی ہیں جبکہ بینک یا مالیاتی ادارے کے اکاوٴنٹ یا ڈپازٹ پر منافع کے لیے اے ٹی ایل افراد کے لیے 20 فیصد اور نان اے ٹی ایل افراد کے لیے 40 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس مقرر ہے۔

ریٹ کارڈ میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات پر اے ٹی ایل افراد کے لیے 4 فیصد اور نان اے ٹی ایل افراد کے لیے 8 فیصد شرح مقرر کی گئی ہے۔ اشیا، خدمات اور معاہدوں کی ادائیگی پر بھی مختلف شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔

ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر آرڈر کی گئی اشیا یا خدمات کی ادائیگی پر اے ٹی ایل کے لیے ایک فیصد اور نان اے ٹی ایل کے لیے 2 فیصد، جبکہ کیش آن ڈلیوری کی صورت میں بالترتیب 2 اور 4 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی پر اے ٹی ایل کے لیے 2.75 فیصد اور نان اے ٹی ایل کے لیے 11.50 فیصد شرح ہے۔ ریٹ کارڈ میں ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز، ہول سیلرز کو فروخت، غیر منقولہ جائیداد کی خریداری اور دیگر معاملات کے لیے بھی ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں شامل ہیں۔

دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ریٹ کارڈ ٹیکس دہندگان، ودہولڈنگ ایجنٹس اور دیگر متعلقہ افراد کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاہم کسی تضاد یا غلطی کی صورت میں ترمیم شدہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اصل قانون تصور ہوگا اور یہ کارڈ عدالت یا قانونی فورم کے سامنے قانونی دستاویز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں