ہومتازہ ترینچین میں امریکی طلبہ کا دیہی احیا اور نسلی ثقافت کا مشاہدہ

چین میں امریکی طلبہ کا دیہی احیا اور نسلی ثقافت کا مشاہدہ

امریکی نوجوانوں کے ایک گروپ نے حال ہی میں چین کے جنوب مغربی صوبہ یون نان کا دورہ کیا ہے۔ جہاں انہوں نے ملک میں جاری دیہی احیا اور متحرک نسلی ثقافت کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔

30 جولائی سے 8 اگست تک اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی سمیت امریکی جامعات کے 11 طلبہ، دالی بائی خودمختار پریفیکچر کی ار یوان کاؤنٹی کا دورہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے بائی طرز کے روایتی رہائشی مکانات کا مشاہدہ کیا ہے، مقامی لوک ثقافتی عجائب گھر کا دورہ کیا ہے اور غیر مادی ثقافتی ورثے کا تجربہ کیا ہے۔

طلبہ نے مقامی گھرانوں کا بھی دورہ کیا ہے اور چائے کے باغات، سیب کے باغات اور چاول و مچھلی کی مشترکہ کاشت کے مراکز میں میدانی تحقیق کی ہے۔ وہاں انہوں نے جانا کہ دیہی صنعتیں مقامی ترقی کو آگے بڑھانے میں کس طرح کردار ادا کر رہی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): اینالیس پریرا، طالبہ، یونیورسٹی آف ورجینیا
"میں نے یہاں بہت اپنائیت محسوس کی ہے۔ بائی روایتی لباس پہننا اور بائی روایتی رقص کرنا میرے لیے ایک ایسا تجربہ تھا جسے حاصل کرکے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے مجھے دونوں ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا موقع ملا ہے۔”

یہ دورہ محض ثقافتی تبادلے تک محدود نہیں رہا ہے۔اس نے طلبہ کو چین کی روزمرہ کی دیہی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): بین اورباخ، طالب علم، جارج ٹاؤن یونیورسٹی
"میں یہاں کے لوگوں کی خوش اخلاقی اور دوستانہ رویے کا ذکر کروں گا۔ آپ شہر میں کہیں بھی چل رہے ہوں، لوگ آپ کو سلام کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کی مجھے توقع نہیں تھی۔”

یہ گروپ خطے میں ماحول دوست ترقی سے بھی متاثر ہوا ہے خصوصاً دیہی آبادیوں میں قابلِ تجدید توانائی کے وسیع پیمانے پر استعمال نے انہیں متاثر کیا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): اینالیس پریرا، طالبہ، یونیورسٹی آف ورجینیا
"سب سے زیادہ متاثر کن چیزوں میں سے ایک شمسی پینلز کا ہر جگہ نظر آنا ہے۔ حتیٰ کہ امریکا میں بھی قابل تجدید توانائی کا استعمال اس سطح پر نہیں ہوتا۔”

چین کے دیہی علاقوں کا تین دہائیوں سے زائد عرصے سے دورہ کرنے والے جان فلاور نے کہا ہے کہ انہوں نے جو تبدیلیاں دیکھی ہیں، وہ غیر معمولی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): جان فلاور، امریکی ماہر تعلیم
"میں 35 سال سے زائد عرصے سے چین کے دیہی علاقوں کا دورہ کر رہا ہوں اور میرے خیال میں یہ شاید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی سماجی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ لوگوں کو ایک خود کفیل طرزِ زندگی سے نکل کر ایسے دور میں آتے دیکھنا جہاں اب خوشحالی موجود ہے، واقعی غیر معمولی ہے۔ یہ انسانی تاریخ کی عظیم کہانیوں میں سے ایک ہے۔”

کنمنگ، چین سے نمائندہ شِنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں