ہومتازہ ترینچین کے شہر شین زین میں ٹیکنالوجی سیاحوں کے لئے نئی کشش...

چین کے شہر شین زین میں ٹیکنالوجی سیاحوں کے لئے نئی کشش بن گئی

شین زین (شِنہوا) شین زین کے بڑے الیکٹرانکس بازار ہواچھیانگ بی میں برائن لاموتھ-آریس دکانوں کی ایک ایسی بھول بھلیوں میں گھومتے رہے جہاں الیکٹرانک پرزوں سے لے کر جدید ترین صارف مصنوعات تک ہر طرح کی اشیاء موجود تھیں۔

امریکی سیاح لاموتھ-آریس اپنے خاندان کے ہمراہ شین زین آئے تھے اور ان کی خریداری کی فہرست بہت سادہ تھی۔ وہ صرف جم کے لئے وائرلیس ہیڈ فونز کا ایک جوڑا خریدنا چاہتے تھے۔ تاہم زیادہ دیر نہیں گزری کہ مختلف اقسام کے دیگر جدید آلات نے بھی ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔

انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یہاں الیکٹرک سائیکلوں، سکوٹروں، کیمروں اور ڈرونز میں بھی بہت دلچسپی ہے۔‘‘

لاموتھ-آریس ان بین الاقوامی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا حصہ ہیں جو چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں واقع ٹیکنالوجی کے مرکز شین زین کا رخ کر رہے ہیں۔ شین زین، ہانگ کانگ کے قریب واقع ہے۔

چین کی جانب سے غیر ملکی مسافروں کے لئے داخلے کے عمل کو آسان بنائے جانے کے ساتھ سیاح اب شہر کا رخ صرف اس کے روایتی سیاحتی مقامات دیکھنے کے لئے ہی نہیں کر رہے، بلکہ ایسی ٹیکنالوجیز کا تجربہ کرنے کے لئے بھی آ رہے ہیں جو دنیا کے دیگر حصوں میں اب بھی مستقبل کی ٹیکنالوجی محسوس ہوتی ہیں۔

ڈرونز شہر کی عمارتوں کے درمیان تیزی سے پرواز کرتے ہوئے گھروں تک کھانے پہنچاتے ہیں۔ فیکٹریوں میں انسان نما روبوٹس کو عملی آزمائشوں سے گزارا جا رہا ہے۔ سڑکیں برقی گاڑیوں کی آمدورفت سے گونج رہی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کو مینوفیکچرنگ، صحت کی دیکھ بھال اور شہری خدمات میں بھرپور انداز سے شامل کیا جا رہا ہے۔

کبھی ماہی گیروں کا ایک گاؤں رہنے والا شین زین چین کے پہلے خصوصی اقتصادی زونز میں شامل ہوا اور گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ترقی کرتے ہوئے اختراع اور جدید مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز میں تبدیل ہو گیا ہے۔

یہ شہر ہواوے، ٹین سینٹ، بی وائی ڈی، ڈی جے آئی اور یو بی ٹیک جیسی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کا مرکز ہے، جبکہ یہاں اے آئی سے لے کر نئی توانائی تک مختلف شعبوں میں کام کرنے والے سٹارٹ اپس کی ایک متحرک برادری بھی موجود ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں