بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت نے پیر کے روز میکسیکو اور امریکہ سے درآمد کئے جانے والے پیکان کی تحقیقات کے بعد اپنا ابتدائی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق یہ مصنوعات چینی منڈی میں غیر منصفانہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی تھیں جس کے باعث مقامی سطح پر شدید مادی و معاشی نقصان پہنچا ہے۔
یہ تحقیقات 25 ستمبر 2025 کو شروع کی گئی تھیں۔ وزارت کے مطابق یہ تمام کارروائی چین کے اینٹی ڈمپنگ قوانین اور عالمی تجارتی تنظیم کے ضوابط کے عین مطابق انجام دی گئی جس میں انصاف، غیر جانبداری، کھلے پن اور شفافیت کے تمام تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا۔
وزارتِ تجارت نے عارضی اینٹی ڈمپنگ اقدامات لاگو کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت میکسیکو کی کمپنیوں پر ڈمپنگ مارجن 17.8 فیصد سے 51.6 فیصد کے درمیان عائد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی عمل میں امریکی کمپنیوں کے عدم تعاون اور عدم شرکت کی بنا پر وزارت نے چینی قوانین اور ڈبلیو ٹی او کے قواعد کے تحت تمام امریکی کمپنیوں کے لئے بالعموم 54.3 فیصد ڈمپنگ مارجن طے کیا ہے۔
وزارت تجارت نے کہا کہ چین تجارتی تلافی یا انسدادی اقدامات کے استعمال میں ہمیشہ احتیاط اور تدبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ منصفانہ و آزادانہ تجارت کے اصولوں پر کاربند ہے۔
وزارت نے مزید وضاحت کی کہ چین قانون کے مطابق اپنی تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھے گا، تمام فریقوں کے قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنائے گا اور تحقیقات کے حتمی نتائج کی روشنی میں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ آخری فیصلہ جاری کرے گا۔


