ہومتازہ ترینآبنائے ہرمز سے گزرنے پر سروس فیس وصول کی جانی چاہیے، ایران

آبنائے ہرمز سے گزرنے پر سروس فیس وصول کی جانی چاہیے، ایران

تہران (شِنہوا) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی سمندری خدمات کے عوض فیس وصول کی جانی چاہیے۔

انہوں نے پیر کے روز ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی کہ آیا آبنائے ہرمز میں ایک نئے بحری راستے کے تعین کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں سمندری خدمات کی فیس کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔

بقائی نے کہا کہ ’’عمومی طور پر جب آپ سمندری خدمات فراہم کرتے ہیں تو ان کی فیس ادا کی جانی چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اس مرحلے پر ہم ایسی تفصیلات پر بات نہیں کر رہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ مذاکرات جاری ہیں اور ’’کچھ تکنیکی نکات‘‘ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

بقائی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات ’’بلاتعطل اور تعمیری انداز میں جاری ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے، ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے، سمندری خدمات فراہم کرنے اور آبنائے میں جرائم کا مقابلہ کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ طور پر طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں موجود شمالی اور جنوبی بحری راستوں کی جگہ ایک درمیانی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نیا راستہ عارضی طور پر استعمال کیا جائے گا، جب تک ایران اور عمان ٹریفک کی علیحدگی کے لئے ایک نئے نظام پر اتفاق نہیں کر لیتے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں