ہوماہم ترینشپلومیسی: سرحدوں سے بالاتر دوستی اور گرمجوشی

شپلومیسی: سرحدوں سے بالاتر دوستی اور گرمجوشی

بیجنگ (شِنہوا) رواں سال مئی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دورہ چین کے موقع پر چینی صدر شی جن پھنگ نے انہیں بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کے حوالے سے منعقدہ تصویری نمائش دیکھنے کی دعوت دی تھی۔

دونوں صدور جب نمائش میں موجود تصاویر دیکھتے ہوئے آگے بڑھے تو انہوں نے چین اور روس کے درمیان قریبی روابط اور تعاون میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرنے والی تصاویر کا جائزہ لیا۔ اس دوران وہ ماسکو کے ریڈ سکوائر کی ایک مانوس تصویر کے سامنے رک گئے۔

یہ تصویر 9 مئی 2025 کو سوویت یونین کی عظیم حب الوطنی کی جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر ماسکو میں بنائی گئی تھی۔ تصویر میں شی جن پھنگ، صدر پوتن اور دوسری جنگ عظیم کے سابق روسی فوجی یوجینی زنامنسکی کے درمیان بیٹھے نظر آ رہے تھے۔ زنامنسکی نے جنگ کے دوران حاصل کئے گئے اعزازات سے سجا ہوا فوجی لباس پہن رکھا تھا۔ دونوں رہنماؤں کو سابق فوجی کے ساتھ گرمجوشی سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

ماسکو میں ایک سال سے زائد عرصہ قبل ہونے والی اس ملاقات کی خوشگوار یادیں تازہ کرتے ہوئے 100 سالہ سابق فوجی زنامنسکی نے بتایا کہ اس روز درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم تھا۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کو خدشہ تھا کہ مجھے سردی لگ سکتی ہے، اس لئے انہوں نے خصوصی طور پر میرے لئے ایک کمبل منگوایا۔

اس جذبہ خیرسگالی سے متاثر زنامنسکی نے کہا کہ وہ صدر شی کی مہربانی کے بے حد قدر دان ہیں۔

کمبل ایک چھوٹا سا اشارہ تھا لیکن اس میں چین کی سفارت کاری کے ایک بنیادی اصول کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔

شی جن پھنگ نے 2017 میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس فلسفے کی وضاحت کی تھی کہ دوستی، جو عوام کے درمیان قریبی روابط سے جنم لیتی ہے، ریاستوں کے درمیان مضبوط تعلقات کی کلید ہے۔

چینی صدر شی جن پھنگ روس کے دارالحکومت ماسکو میں سوویت یونین کی عظیم حب الوطنی کی جنگ میں فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقریبات میں شریک ہیں۔(شِنہوا)

اپنے بیرون ملک دوروں اور سفارتی سرگرمیوں کے دوران شی جن پھنگ نے خلوص اور باہمی احترام کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں سے دوستانہ تعلقات قائم کئے ہیں۔ مصروف ترین شیڈول کے باوجود وہ ہمیشہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کے لئے وقت نکالتے ہیں۔

ان کی پرخلوص مسکراہٹ اور ملنسار انداز نے بے شمار یادگار لمحات کو جنم دیا ہے جو سرحدوں سے بالاتر باہمی مفاہمت اور دوستی کے پل تعمیر کرتے ہیں۔

مئی 2015 میں روس کے دورے میں شی جن پھنگ نے سابق روسی جنگی فوجیوں کے نمائندوں کو انسداد فسطائیت کی عالمی جنگ میں ان کی خدمات اور فتح میں کردار کے اعتراف میں یادگاری بیج پیش کئے۔

جب شی جن پھنگ نے دیکھا کہ سابق روسی فوجی گاوردوسکی کو ٹھیک طرح سے چلنے میں دشواری پیش آ رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ میں خود آپ کے پاس آکر بیج دیتا ہوں، آپ کو چلنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد شی جن پھنگ تیزی سے گاوردوسکی کے پاس گئے اور انہیں یادگاری بیج پیش کیا۔

تقریب کے بعد گاوردوسکی نے کہا کہ چینی صدر کی جانب سے دکھائی گئی باریک بینی سے بھرپور توجہ اور خیال نے انہیں گہرا متاثر کیا۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں چینی صدر شی جن پھنگ کے ساتھ جاپان مخالف جنگ کے دوران چین اور روس کی عظیم حب الوطنی کی جنگ کے محاذوں پر بے خوفی سے لڑنے والے سابق روسی جنگی فوجیوں کے 18 نمائندوں کی ملاقات کے موقع پر گروپ فوٹو-(شِنہوا)

شی جن پھنگ نوجوانوں سے ملاقات کے دوران بھی اسی گرمجوشی اور توجہ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

مئی 2024 میں شی جن پھنگ نے ہنگری کا سرکاری دورہ کیا۔ چینی صدر کے استقبال کے لئے موجود افراد میں ہنگری کی لڑکی اولا تمارا بھی شامل تھی، جنہوں نے 2009 میں شی جن پھنگ کے چین کے نائب صدر کی حیثیت سے ہنگری کے دورے کے موقع پر انہیں پھول پیش کئے تھے۔

جب شی جن پھنگ کو بتایا گیا کہ یہی وہ لڑکی ہیں جنہوں نے 15 سال قبل انہیں پھول پیش کئے تھے تو صدر نے اس ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ تم تو بڑی ہوگئی ہو، اس وقت تو تم اتنی سی تھیں ،یہ کہتے ہوئے انہوں نے ہاتھ سے قد کا اشارہ بھی کیا۔

چند لمحوں کی اس مختصر گفتگو نے 15 سال کا فاصلہ یکدم ختم کر دیا۔ اولا اس قدر متاثر ہوئی کہ انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ شی جن پھنگ انہیں اب بھی یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت گرمجوش اور مہربان ہیں۔

شی جن پھنگ کے بیرون ملک دوروں میں ایسے بے شمار یادگار لمحات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جرمنی میں بارش والے ایک دن بچوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے انہیں گرم رہنے اور سردی سے بچنے کی تلقین کی۔ آسٹریلیا میں انہوں نے پرائمری سکول کے ان طلبہ سے ملاقات کے لئے وقت نکالا جنہوں نے انہیں خطوط لکھے تھے، انہیں مطالعاتی دوروں کے لئے چین آنے کی دعوت دی اور خط لکھتے رہنے کی ترغیب دی۔ امریکی ریاست واشنگٹن کے ایک ہائی سکول کے دورے میں انہوں نے طلبہ سے کھیلوں، موسیقی اور نوجوانوں کے موضوعات پر گفتگو کی۔

مزدوروں اور کسانوں سے ملاقات کے دوران شی جن پھنگ اپنے سادہ، بے تکلف انداز اور خلوص کے لئے جانے جاتے ہیں۔

نوجوانی کے دور میں کسانوں کے ساتھ کام کرنے اور زندگی گزارنے کے باعث شی جن پھنگ کا کسانوں کے ساتھ ہمیشہ سے گہرا تعلق رہا ہے۔

کوسٹا ریکا کے دورے میں چینی صدر شی جن پھنگ اپنی اہلیہ پینگ لی یوآن کے ہمراہ ایک مقامی کسان کے خاندان کے افراد سے ملاقات کر رہے ہیں-(شِنہوا)

2013 میں کوسٹا ریکا کے ایک زرعی خاندان کے دورے میں شی جن پھنگ نے دیہی چین میں اپنے کام کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی کسان رہ چکے ہیں اور چینی کسانوں کی زندگی کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔

خاندان کے کافی کے چھوٹے سے باغ کا دورہ کرتے ہوئے شی جن پھنگ بار بار رک کر میزبان مارکو تولیو زامورا سے کافی کی کاشت، پیداوار اور فروخت کے بارے میں سوالات کرتے رہے۔

زامورا کے لئے یہ گفتگو ناقابل فراموش تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے شاذ و نادر ہی کسی غیر ملکی رہنما کو ان کے جیسے کسی عام خاندان کے گھر آتے دیکھا ہے اور ان کے خاندان نے خود کو انتہائی معزز محسوس کیا۔

2016 میں سربیا کے دورے میں شی جن پھنگ نے سمیڈریوو سٹیل پلانٹ کا دورہ کیا۔ وسیع و عریض اور مصروف ہاٹ رولنگ ورکشاپ میں مشینوں کا شور گونج رہا تھا اور ہر طرف گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ شی جن پھنگ وقتاً فوقتاً رک کر پیداواری عمل کا بغور جائزہ لیتے اور پلانٹ کے امور کے بارے میں تفصیلی سوالات کرتے رہے۔

بعد ازاں شی جن پھنگ نے سٹاف کینٹین کا دورہ کیا۔ انہیں سب سے زیادہ دلچسپی ملازمین کی روزمرہ زندگی میں تھی۔ سمیڈریوو سٹیل پلانٹ کے سینئر ملازم نیناد سویتانووچ کو آج بھی وہ حوصلہ افزائی یاد ہے جو چینی رہنما کی جانب سے یہ یقین دلانے پر کارکنوں میں پیدا ہوئی کہ یہ پلانٹ یقینی طور پر دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کا ہمارے ساتھ میل جول سٹیل پلانٹ کے کارکنوں کے دلوں میں گہرا اثر چھوڑ گیا۔ ہماری فلاح و بہبود کے لئے ان کی فکر دل کی گہرائیوں سے تھی جس نے ہمیں تحفظ اور امید کا مضبوط احساس دیا۔

سربیا کے شہر سمیڈریوو میں واقع ایچ بی آئی ایس سربیا کا فضائی منظر-(شِنہوا)

1913 میں قائم ہونے والا سمیڈریوو سٹیل پلانٹ ایک وقت میں "سربیا کا فخر”سمجھا جاتا تھا۔ تاہم 1990 کی دہائی کے اواخر تک مسابقتی صلاحیت میں کمی اور ناقص انتظامی امور کے باعث یہ پلانٹ بند ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ 2016 میں چین کے ایچ بی آئی ایس گروپ نے اس پلانٹ کو خرید لیا۔ دونوں جانب کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں پلانٹ نے حیران کن تبدیلی کا سفر طے کیا اور دوبارہ سربیا کے اہم برآمدی مراکز میں شامل ہوگیا۔

2024 میں سٹیل مل کے 30 سربیائی کارکنوں نے چینی صدر شی جن پھنگ کے نام خط لکھا، جس میں انہوں نے سٹیل مل کی ترقی کی داستان بیان کی اور منصوبے کی کامیابی میں تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

اپنے جوابی خط میں شی جن پھنگ نے کہا کہ یہ جان کر انہیں بہت خوشی ہوئی کہ چینی سرمایہ کاری سے چلنے والے ادارے کی سرمایہ کاری کے بعد سٹیل پلانٹ نے مختصر عرصے میں خسارے سے نکل کر منافع کمانا شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پلانٹ کی ترقی کارکنوں کی لگن اور محنت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ کارکنوں نے سٹیل پلانٹ کی تیز رفتار ترقی کے لئے پوری محنت سے کام کیا اور چین اور سربیا کے درمیان آہنی دوستی میں ایک نیا باب رقم کیا۔

شی جن پھنگ نے اپنے خط میں لکھا کہ میں آپ سب کو شاباش دیتا ہوں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں