ریاض (لارڈ میڈیا): یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی جازان ریفائنری پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام نے آگ لگنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا کہ جازان ریفائنری کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ سعودی وزارت توانائی نے کہا کہ آگ بجھا دی گئی ہے، تاہم آگ کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔
جازان ریفائنری سعودی عرب کے لیے اہم تنصیب ہے جو روزانہ تقریباً 4 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرتی ہے۔ حوثیوں نے پہلے بھی یہاں حملے کیے ہیں، جبکہ 27 جولائی کو بھی حملے کے باعث ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا۔
یمنی حکومتی فورسز کے مطابق المخا میں بھی حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں جس میں بندرگاہ، شہری تنصیبات اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں 11 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے جبکہ سعودی عرب نے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف تصور کیا جائے گا۔


