قاہرہ (شِنہوا) ایک مصری ماہر نے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور مصر کے وژن 2030 میں ہم آہنگی چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کی مدد سے چین اور مصر کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
قاہرہ میں قائم تھنک ٹینک گلوبل فورم فار فیوچر سٹڈیز کے صدر طارق نصیر نے شِنہوا کو حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ 2014 میں چین اور مصر کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کا قیام دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل تھا، جس سے تعاون کا دائرہ اقتصادی، سیاسی اور تزویراتی شعبوں تک وسیع ہوا۔
یہ فورم چین کے بارے میں متعدد مطالعات شائع کرتا ہے، جن میں اس کی سالانہ رپورٹ ’’چائنہ ان اے ایئر‘‘ بھی شامل ہے، جو چینی معاملات اور چین مصر تعلقات کا گہرائی سے تجزیہ پیش کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ شراکت داری نے مصر میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کو فروغ دیا ہے، جبکہ جاری پیش رفت کی ایک اہم وجہ بی آر آئی اور مصر کے وژن 2030 میں ہم آہنگی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی اور چین کی جانب سے پیش کردہ دیگر اقدامات بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، رابطوں کو مضبوط کرنے اور ترقی کے فرق کو کم کرنے میں مدد دیتے ہوئے بالخصوص گلوبل ساؤتھ میں ترقی، سلامتی اور استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے پیش کردہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر مبنی ہیں، جو ترقی پذیر ممالک کو سخت سیاسی شرائط کے بغیر باہمی مفاد پر مبنی تعاون کا ایک نمونہ فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو بااختیار بنانا اور کثیرالجہتی کو فروغ دینا بھی ہے، جس کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کو زیادہ مضبوط آواز ملتی ہے اور ایسے ترقیاتی اداروں کے قیام کو فروغ دیا جاتا ہے جو اس کے مفادات کی بہتر نمائندگی کرتے ہیں۔
ماہر نے کہا کہ مصر نے بی آر آئی میں شمولیت سے نمایاں اقتصادی اور ترقیاتی فوائد حاصل کئے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام نے بڑے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کے منصوبوں، قومی بجلی کے گرڈ میں بہتری اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کی توسیع و جدید کاری کے ذریعے مصر کی اقتصادی ترقی اور صاف توانائی کی جانب منتقلی میں کردار ادا کیا ہے۔
نصیر نے مزید کہا کہ اس سے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے، مصر کے صنعتی اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کو آسان بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کو گہرا کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔
مصر کے اہم ترقیاتی منصوبوں، جن میں نئے انتظامی دارالحکومت میں مرکزی کاروباری ضلع، لائٹ ریل ٹرانزٹ نظام، خلائی ٹیکنالوجی میں تعاون اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل ہیں، میں چینی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے نصیر نے کہا کہ چینی شمولیت مصر کی پائیدار ترقی کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے، جس سے جدید ٹیکنالوجیز کو مقامی سطح پر منتقل کرنے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، قومی ترقیاتی منصوبوں کی معاونت اور دسیوں ہزار روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مصر میں چینی سرمایہ کاری کا بڑھتا ہوا رجحان باہمی مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔
چین مصر ٹی ای ڈی اے سویز اقتصادی و تجارتی تعاون زون کے بارے میں بات کرتے ہوئے نصیر نے کہا کہ ٹی ای ڈی اے زون چین کے مصری مارکیٹ کے تزویراتی محل وقوع اور بنیادی ڈھانچے پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔


