ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ٹریور لانگ، آسٹریلوی ٹیکنالوجی تجزیہ کار
’’میرے خیال میں حالات کے مطابق تیزی سے خود کو ڈھالنے کی صلاحیت، جدت پسندی اور مناسب قیمت وہ اہم عوامل ہیں جن کی بدولت چین کی آٹو موٹیو صنعت آسٹریلیا میں اس قدر تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔‘‘
آسٹریلیا میں نئی گاڑیوں کی سب سے زیادہ فراہمی اب چینی برانڈز کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ برتری صرف مسابقتی قیمتوں تک محدود نہیں ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ٹریور لانگ، آسٹریلوی ٹیکنالوجی تجزیہ کار
’’دراصل چین کی آٹو موٹیو صنعت کی اصل طاقت اس کی جدت پسندی اور تیزی سے تبدیلی لانے کی صلاحیتیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک گاڑی سے متعلق فیصلہ سازی میں انہیں کئی برس لگ جائیں جس کے بعد وہ اس گاڑی کو مارکیٹ میں لائیں جبکہ ان کے جرمن مدمقابل کو ایسا کرنے میں چھ، سات سال لگ سکتے ہیں۔
چینی ساختہ کاروں میں جو جدت ہم دیکھتے ہیں وہ قابلِ ذکر ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ ان گاڑیوں میں بڑی اسکرینیں موجود ہیں۔ ان اسکرینوں میں ایسی حیرت انگیز ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ہے جو نہ صرف سڑکوں پر ہماری حفاظت یقینی بناتی ہے بلکہ تفریح جیسی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے چاہے وہ سامنے شیشے پر معلومات دکھانے والےنظام کی صورت میں ہو یا بڑی اسکرین پر۔
رواں برس بیجنگ آٹو شو کے موقع پر میں ’جی لی‘ اور ’زِیکر‘ کی فیکٹریوں میں بھی گیا۔ ہم نے صرف فیکٹریاں ہی نہیں دیکھیں بلکہ یہ بھی دیکھا کہ وہ گاڑیاں کیسے تیار کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں اپنا حفاظتی مرکز بھی دکھایا۔ ان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا حفاظتی مرکز موجود ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ یہاں گاڑیوں کو ٹکر مار کر ان کی حفاظت جانچنے کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی سہولت موجود ہے۔
گاڑیوں کو ٹکر مار کر کی جانے والی حفاظتی جانچ نے ایک بار پھر اس بات کو تقویت دی کہ چینی گاڑیوں کے بارے میں لوگوں کا تاثر اب تبدیل ہو رہا ہے۔
یہ واقعی محفوظ، مضبوط، اعلیٰ معیار کی حامل اور بہترین گاڑیاں ہیں۔
آسٹریلوی عوام کا اعتماد جیتنا مشکل نہیں ہے۔ اس کے لئے صرف وقت اور سرمایہ چاہئے۔‘‘
سڈنی، آسٹریلیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


