نیوشہر (شِنہوا) ترکیہ کے کیپاڈوشیا خطے میں واقع نیوشہر حاجی بکتاس ولی یونیورسٹی کے ریکٹر سیمح اکتکین کے مطابق یونیورسٹی تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کی خواہاں ہے۔
اکتکین نے شِنہوا کو حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ہماری یونیورسٹی کیپاڈوشیا میں واقع ہے، جو قدیم تہذیبوں کا مرکز اور شاہراہ ریشم کا حصہ بھی رہا ہے۔ جب شاہراہ ریشم کی بات کی جائے تو چین کا ذکر نہ کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا محل وقوع اور قدیم شاہراہ ریشم سے اس کے تاریخی روابط چین کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کے لئے ایک قدرتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
رواں سال چین اور ترکیہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ ہے۔ اکتکین کا کہنا ہے کہ یہ سنگ میل دونوں ممالک کی جامعات اور عوام کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے کے لئے نئی رفتار فراہم کر سکتا ہے۔
ریکٹر نے بتایا کہ یونیورسٹی نے چینی زبان و ادب کا شعبہ قائم کیا ہے اور متعدد شعبوں میں چینی جامعات کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کے لئے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیپاڈوشیا کا تعلق مٹی کے برتن سازی سے بھی ہے، اس لئے چین کے ساتھ ثقافت، فنون، تاریخ اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔
ثقافتی شعبوں سے آگے بڑھتے ہوئے اکتکین نے انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں چین کی تیز رفتار ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان پیش رفتوں نے علمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین نے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی دنیا کی اہم ترجیحات میں شامل ہو چکی ہے اور چینی کمپنیوں نے اس شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی پہلے ہی چینی اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور بالخصوص ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ان شراکت داریوں کو مزید گہرا کرنے کی خواہاں ہے۔
چین کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کا براہ راست مشاہدہ کرنے کے لئے وہ یونیورسٹی کے ایک وفد کے ہمراہ چین کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے چین کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کا موقع پر مشاہدہ کیا۔ وہاں بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے ہم نے چینی جامعات کے ساتھ سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، فنون لطیفہ اور زبان کے مطالعات سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدے کئے ہیں۔
اکتکین نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ تحقیقی منصوبوں، علمی تبادلوں اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے یہ شراکت داریاں مزید وسعت پائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تعاون مزید مضبوط ہوتا رہے گا۔
دونوں ممالک کے وسیع تر تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اکتکین نے چین اور ترکیہ کو طویل تاریخ رکھنے والی تہذیبیں قرار دیا، جن کا مشترکہ ورثہ مستقبل میں تعاون کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔


