ہیفے (شِنہوا) چین مریخ سے نمونے واپس لانے کا اپنا مشن تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے جس کے لئے چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کے شہر ہیفے میں قائم ’ڈیپ سپیس سائنس سٹی‘ کے پہلے مرحلے میں سیاروی تحفظ کی لیبارٹری تعمیر کی جائے گی۔ یہ معلومات ڈیپ سپیس ایکسپلوریشن لیبارٹری (ڈی ایس ای ایل) کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں جو اس لیبارٹری کے افعال کے ایک حصے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
سیاروی تحفظ کی یہ لیبارٹری ایک دو طرفہ حفاظتی نظام نافذ کرے گی جو مریخ سے واپس لائے جانے والے نمونوں اور زمین کے حیاتیاتی کرہ کی حفاظت کرے گا۔ اس کی ذمہ داریوں میں نمونوں کی جراثیم کشی، انہیں کھولنا، پروسیس کرنا اور حیاتیاتی خطرات کا تخمینہ لگانا شامل ہے۔ اس سہولت کو گہرے خلائی مشنز کی تکمیل میں معاونت اور مریخی نمونوں پر سائنسی تحقیق ممکن بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اپریل میں چین کی قومی خلائی انتظامیہ نے ’تیان وین-3‘ مشن کا لائحہ عمل جاری کیا تھا۔ اس خلائی جہاز کی پرواز تقریباً 2028 میں متوقع ہے جبکہ مریخ سے نمونے جمع کرنا اور زمین پر واپسی کا عمل 2031 کے قریب مکمل ہونے کی امید ہے۔
ڈی ایس ای ایل کے شعبہ منصوبہ بندی و ترقی کے ڈائریکٹر لی ہانگ نے بتایا کہ یہ لیبارٹری خلائی نمونوں سے حاصل ہونے والے سائنسی نتائج کے لئے خدمات انجام دے گی۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ چین خلائی تحقیق کی کمیٹی کی سیاروی تحفظ کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوگا تاکہ مریخ کو زمین کے نامیاتی مادوں کی حیاتیاتی آلودگی سے بچایا جا سکے اور زمین کو مریخی نمونوں کے ساتھ آنے والی غیر ارضی حیات یا حیاتیاتی عناصر سے محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ نئی لیبارٹری چین کے بین السیاروی تحقیقاتی پروگرام کا حصہ ہے۔ مئی 2021 میں چین کا ژورونگ روور مریخ کے جنوبی حصے یوٹوپیا پلانیٹیا پر اترا تھا۔ مئی 2022 تک اس نے مریخ کی سطح پر 1921 میٹر کا سفر طے کیا اور وافر مقدار میں سائنسی ڈیٹا جمع کیا۔


