تہران (شِنہوا) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے اس وقت رابطہ کرنا انتہائی مشکل ہے تاہم ان کی موجودگی ملک کے لئے اپنے راستے پر گامزن رہنے کی بہت بڑی طاقت ہے۔
صدر پزشکیان نے اپنے دفتر کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو مایوسی کے عالم میں شہید کیا کیونکہ انہیں توقع تھی کہ اس بے رحمانہ اقدام کے بعد ایران ٹوٹ جائے گا۔
تاہم ملک قائم رہا اور ہمارے (نئے) محبوب رہنما کا انتخاب کر لیا گیا۔ ہمارے نئے عزیز رہنما کی موجودگی ہمارے لئے ایک بہت بڑی طاقت ہے، جس کے باعث ہم اس راستے پر آگے بڑھ سکتے ہیں، اگرچہ اس وقت ان سے رابطہ کرنا بہت مشکل ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت اپنی انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کو بینکاری شعبے پر سخت پابندیوں، غیر ملکی مالی لین دین پر قدغنوں، بحری ناکہ بندی اور جاری جنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای، جو علی خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں، کو مارچ کے شروع میں ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔


