واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا میں میکسیکو سے درآمد کی جانے والی آئس برگ لیٹس اور جلاپینو مرچوں سے پیٹ کے انفیکشنز کے ہزاروں کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد خوراک کے تحفظ پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دو صحتی اداروں کے مطابق آلودہ سبزیوں سے سائیکلو اسپوریاسس اور سالمونیلا بیماریاں پھیلی ہیں، جن سے ہزاروں افراد متاثر اور متعدد ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔
امریکی صحت کے اداروں ایف ڈی اے اور سی ڈی سی نے ان وباؤں کے پھیلاؤ کے پیش نظر اپنی تحقیقات کا دائرہ 15 ریاستوں تک بڑھا دیا ہے۔ متاثرہ ریاستوں میں مسوری، آرکنساس، آئیووا، نیبراسکا، نیو ہیمپشائر اور نارتھ کیرولائنا شامل ہیں۔
صحت حکام کے مطابق اب تک 6,358 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 278 مریض اسپتال میں داخل کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ رپورٹنگ میں وقت لگتا ہے۔
تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ وبا کا تعلق میکسیکو کے وسطی علاقے سے درآمد کی گئی آئس برگ لیٹس سے ہے، جو ٹیلر فارمز کی تنصیبات سے منسلک ہے۔
مشی گن ریاست میں کیسز میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جہاں دو اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ دونوں افراد پہلے سے سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے۔
دوسری جانب، سالمونیلا کا تعلق میکسیکو کی سینالوا ریاست میں اگائی جانے والی جلاپینو مرچوں سے ہے۔ ایف ڈی اے کے مطابق یہ مرچیں امریکا میں مختلف ریسٹورنٹس کو فراہم کی گئی تھیں اور کمپنی نے متاثرہ مرچیں واپس منگوانا شروع کر دی ہیں۔
چیپوٹلے اور کیوڈوبا ریسٹورنٹس نے متاثرہ مرچوں کا استعمال بند کر دیا ہے جبکہ ایف ڈی اے کے مطابق ان ریسٹورنٹس سے اب کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے۔
دونوں وباؤں کے بعد امریکا میں خوراک کی درآمدی مصنوعات کی نگرانی پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ امریکی صحت حکام کا کہنا ہے کہ دونوں معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔


