نیویارک (شِنہوا) امریکہ کی 25 ریاستوں پر مشتمل ایک اتحاد نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر وسیع پیمانے پر نئے ٹیرف عائد کرکے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت میں دائر کی گئی درخواست میں حال ہی میں نافذ کئے گئے ان محصولات کو چیلنج کیا گیا ہے، جن کے تحت متاثرہ معیشتوں سے درآمد ہونے والی بیشتر اشیاء پر 10 فیصد یا 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ ریاستوں کے مطابق یہ معیشتیں مجموعی طور پر امریکی درآمدات کا 99.4 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔
ریاستوں کے اتحاد نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان ٹیرف کو روکنے، انہیں غیر قانونی قرار دینے اور پہلے سے وصول کئے گئے محصولات کی واپسی کا حکم دیا جائے۔
قانونی درخواست کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ وفاقی عدالتوں کی جانب سے مختلف قانونی بنیادوں پر عائد کئے گئے دو سابقہ ٹیرف مسترد کئے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے وسیع ٹیرف نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ریاستوں کا موقف ہے کہ وفاقی حکام نے 1974 کے تجارتی ایکٹ کے سیکشن 301 اور جبری مشقت سے متعلق خدشات کو محض جواز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تقریباً وہی عالمی محصولات دوبارہ تیزی سے نافذ کئے، جنہیں سپریم کورٹ فروری میں پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی تھی۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے ایک بیان میں کہا کہ "صدر ٹرمپ کے غیر قانونی ٹیرف محنت کش خاندانوں پر ایک اضافی ٹیکس کے سوا کچھ نہیں، جو اشیائے خور و نوش، گھریلو ضروریات، تعمیراتی سامان اور روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاء کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں، جن پر نیویارک کے شہری انحصار کرتے ہیں۔”
اوریگن کے اٹارنی جنرل ڈین رے فیلڈ نے بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے مقامی معیشت پر اس کے اثرات اجاگر کئے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ "آج ہم ٹرمپ کے غیر قانونی ٹیرف کے خلاف تیسرا مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔ ایک بار پھر صدر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں، جس کا بوجھ اوریگن کے خاندانوں اور چھوٹے کاروباروں پر پڑ رہا ہے اور ایک بار پھر ہم کثیر ریاستی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے اس اقدام کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کہا کہ "سپریم کورٹ میں شکست کے بعد انتظامیہ ایک مرتبہ پھر نئے ٹیرف کے ذریعے غیر قانونی طور پر خاندانوں اور کاروباری اداروں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔”
وائٹ ہاؤس نے ریاستوں کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیکشن 301 کے تحت عائد کئے جانے والے ٹیرف صدر ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت سے ہی ایک "قانونی طور پر مضبوط اور موثر ذریعہ” ثابت ہوئے ہیں اور موجودہ انتظامیہ کے دوران بھی یہی حیثیت رکھتے ہیں۔
پیر کے روز دائر کئے گئے اس مقدمے میں نیویارک کے ساتھ ایریزونا، کیلیفورنیا، کولوراڈو، کنیکٹیکٹ، ڈیلاویئر، ہوائی، الینوائے، کینٹکی، میساچوسٹس، میری لینڈ، مین، مشی گن، مینی سوٹا، نیواڈا، نیو جرسی، نیو میکسیکو، شمالی کیرولائنا، اوریگن، پنسلوانیا، رہوڈ آئی لینڈ، ورجینیا، ورمونٹ، واشنگٹن اور وسکونسن بھی شامل ہیں۔
پیر کو دائر کیا گیا یہ مقدمہ نئے ٹیرف کے خلاف کم از کم دوسرا بڑا قانونی چیلنج ہے۔ اس سے قبل چھوٹے کاروباری اداروں کے ایک گروپ نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے یہی موقف اختیار کیا تھا کہ صدر سپریم کورٹ کی جانب سے ان کے وسیع ٹیرف پروگرام کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد نئے قانونی اختیارات کا سہارا لے کر اس فیصلے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔


