واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے کئی مواقع پر ایران کے خلاف سخت بیانات دیے مگر بعد میں ان پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق، 21 مارچ کو صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا، لیکن ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی گئی۔ یکم اپریل کو انہوں نے ایران کو سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی، مگر فوری اقدام نہیں کیا گیا۔
7 اپریل کو ٹرمپ کے سخت بیان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش ظاہر کی۔ مگر پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا۔
4 مئی کو ٹرمپ نے ‘آپریشن پروجیکٹ فریڈم’ کا اعلان کیا تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، لیکن دو روز بعد مذاکرات کے امکانات کے تحت کارروائی روک دی گئی۔
11 جون کو بھی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی دی، مگر بعد میں کہا کہ امریکا ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے حامی مذاکرات کو سفارتی فیصلہ قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین اسے کمزوری سمجھتے ہیں۔
امریکی صدر یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، مگر ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر بحث جاری ہے۔


