ہومتازہ ترینجاپان نے خدشات کے باوجودمرکزی انٹیلی جنس ایجنسی قائم کر دی

جاپان نے خدشات کے باوجودمرکزی انٹیلی جنس ایجنسی قائم کر دی

ٹوکیو (شِنہوا) جاپان نے جمعہ کے روز اپنی نئی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی کا آغاز کر دیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ ایک متنازع اقدام ہے، جس کے بارے میں بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ اس کے لئے نگرانی اور احتساب کا موثر نظام موجود نہیں ہوگا۔

کیوڈو نیوز نے بتایا کہ نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام کابینہ کے انٹیلی جنس اینڈ ریسرچ آفس کی جگہ عمل میں آیا ہے، جس کے اختیارات محدود تھے۔ یہ اقدام مئی میں منظور کی گئی اس قانون سازی کے بعد کیا گیا، جس کے تحت نیشنل انٹیلی جنس کونسل قائم کی گئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون 2023 سے کابینہ کے انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دینے والے اور نیشنل پولیس ایجنسی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے کازویا ہارا نے جمعہ کو بیورو کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھال لیا۔

بیورو وزیراعظم کی سربراہی میں قائم مرکزی کمانڈ ادارے نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گا، جس میں اہم وفاقی وزراء شامل ہوں گے۔ یہ ادارہ نیشنل پولیس ایجنسی، وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور دیگر اداروں سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کو مربوط کرے گا اور انہیں معلومات فراہم کرنے کا پابند بھی بنا سکے گا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کونسل کے پہلے اجلاس میں جاپان کی پہلی قومی انٹیلی جنس حکمت عملی پر غور شروع کیا جائے گا۔

انٹیلی جنس سرگرمیوں میں اس توسیع نے عوامی سطح پر خدشات کو جنم دیا ہے کہ اس کے نتیجے میں شہریوں کی نگرانی میں اضافہ ہو سکتا ہے، حکومت کو اختیارات کے من مانے استعمال کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ دونوں ادارے سیاسی طور پر غیرجانبدار رہ سکیں گے اور آیا مجوزہ قانون سازی عوام کی نجی زندگی اور رازداری کے حقوق کو متاثر کر سکتی ہے۔

ناقدین اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے نہ صرف ذاتی معلومات اور رازداری میں غیرضروری مداخلت کے خدشات بڑھتے ہیں بلکہ کسی موثر نگرانی اور احتساب کے نظام کے بغیر نئے بیورو کے اختیارات بھی مزید مضبوط ہو جائیں گے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں