ہومتازہ ترینآسیان پلس تھری کو اے آئی، توانائی اور ادائیگیوں کے نظام میں...

آسیان پلس تھری کو اے آئی، توانائی اور ادائیگیوں کے نظام میں گہرے انضمام کا مشورہ

سنگاپور (شِنہوا) آسیان پلس تھری میکرو اکنامک ریسرچ آفس (اے ایم آر او) نے کہا ہے کہ آسیان پلس تھری کی معیشتوں، یعنی آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ چین، جاپان اور جنوبی کوریا کو مصنوعی ذہانت (اے آئی)، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے انضمام کی رفتار تیز کرنی چاہیے تاکہ مصنوعی ذہانت کی عالمی تجارت کو نئی شکل دینے کے عمل میں امریکی ڈالر پر بڑھتے ہوئے انحصار سے بچا جا سکے۔

اے ایم آر او کے ماہرین معاشیات کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں، کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والوں اور ادائیگیوں کے نیٹ ورکس کے تجارتی فیصلے پہلے ہی امریکی کرنسی پر مرکوز ایک نئے مالیاتی نظام کو تشکیل دے رہے ہیں۔

اے ایم آر او نے کہا کہ اگرچہ آسیان پلس تھری ممالک ڈالر کے ازخود مضبوط ہونے والے نظام کو تشکیل پانے سے تو نہیں روک سکتے، تاہم وہ ڈالر پر اپنے انحصار کو کم کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے کی معیشتوں کو توانائی، مصنوعی ذہانت اور ادائیگیوں کے نظام کو یکجا کرنے پر مبنی ایک مربوط حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ ڈیجیٹل مسابقت میں اضافہ ہو اور ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کم لاگت اور بتدریج زیادہ ماحول دوست توانائی سے چلنے والے علاقائی ڈیٹا سنٹرز کی استعداد بڑھائی جائے تاکہ مقامی سطح پر کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی بہتر ہو جبکہ مقامی کرنسیوں پر مبنی ٹوکن کے ذریعے ادائیگیوں کے نظام بھی تیار کئے جائیں جو مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار تجارت کی معاونت کر سکیں۔

اے ایم آر او کے مطابق ایسے اقدامات کاروباری اداروں کو ڈالر میں ہونے والی ادائیگیوں کے نیٹ ورکس پر بڑھتے ہوئے انحصار کے بغیر ڈیجیٹل معیشت میں موثر انداز میں حصہ لینے کے قابل بنائیں گے جبکہ ریگولیٹری ادارے مالیاتی لین دین کی نگرانی بھی برقرار رکھ سکیں گے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں