واشنگٹن (لارڈ میڈیا): واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورہ امریکا کے دوران سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور امریکی حکومت سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
شدید بارش کے باوجود مظاہرین فلسطینی پرچم اور بینرز اٹھائے وائٹ ہاؤس کی جانب مارچ کرتے رہے۔ اس دوران سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔
مظاہرین کا ایک گروپ جارج ٹاؤن کے فور سیزنز ہوٹل کی لابی میں داخل ہو گیا، جہاں بنیامین نیتن یاہو رات کے کھانے میں شریک تھے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو روک کر عمارت سے باہر نکال دیا۔
مظاہرین نے ہوٹل میں نعرے بازی کی اور ‘بی بی، بی بی، تم چھپ نہیں سکتے، تم نسل کشی کر رہے ہو’ جیسے نعرے لگائے، جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جنہیں اسرائیل نے مسترد کیا ہے۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے احتجاج پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جبکہ نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔


