واشنگٹن (لارڈ میڈیا): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر براہ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے کسی بھی حملے کی صورت میں انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب یا تو ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے یا تہران حملوں کی قیمت چکانے پر آمادہ ہو۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور اردن کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کی، تاہم کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام کسی معاہدے کے ساتھ یا بغیر، ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ٹرمپ کی تجویز کی حمایت کی، جس میں ریاض کو صرف سویلین جوہری پروگرام کی اجازت دی جائے گی۔
لبنان کے حوالے سے نیتن یاہو نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کو اسرائیل لبنان سرحد سے 5 سے 8 میل پیچھے دھکیل دیا ہے اور تنظیم کے تقریباً 94 فیصد میزائل اور راکٹ تباہ کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک نئے سہ فریقی معاہدے کے تحت کئی دہائیوں بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع ہوں گے۔


