عراق (لارڈ میڈیا): شمالی عراق اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں میں ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج اردن میں ایرانی حملے کے مقام سے ملنے والے کچھ ناقابل شناخت جسمانی اعضا کا جائزہ لے رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
امریکا نے ایرانی حملوں میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف پہلے ہی کرچکا ہے، جبکہ ایک امریکی فوجی لاپتہ اور بعض زخمی بھی بتائے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب جب ایرانی کسی امریکی فوجی کو قتل کریں گے، انہیں اس کی کئی گنا قیمت چکانی پڑے گی۔ سیکرٹری جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈینیئل کین کو اس بارے میں واضح ہدایات دے دی گئی ہیں۔
گزشتہ روز امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی اہلکار 18 جولائی کو کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔ ہفتے کو اردن پر ایران کے میزائل حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہو گیا تھا جبکہ چار امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
سینٹکام کے مطابق ایک امریکی فوجی تاحال لاپتا ہے، ہلاک شدگان کی شناخت بعد میں ظاہر کی جائے گی۔


