واشنگٹن (لارڈ میڈیا) : اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکا نے ایران پر تازہ حملے کیے، جس کے نتیجے میں حاجی آباد، بندرعباس اور قشم دھماکوں سے لرز اُٹھے۔ صوبہ ہرمزگان کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ کیش کی فضائی حدود میں جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں۔ سیریک شہر میں میزائل گرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔
امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں اردن میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے سینٹ کام کو "جہنم کے دروازے کھولنے” کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تہران معاہدے پر عمل نہیں کر رہا تو امریکا کو بھی اس کی کوئی فکر نہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق ان حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ متعدد ہیلی کاپٹر شدید متاثر ہوئے اور فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ ایران کی جانب سے عراق کے شہر اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب دھماکا خیز ڈرون تباہ کیا گیا۔
کویت میں امریکی لاجسٹک مرکز، کیمپ اور ایئربیس کے ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ہینگرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ مزید برآں، ایران نے الاحمدی بندرگاہ پر موجود امریکی بحری بیڑے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔


